تروننت پورم: کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پنرئی وجین نے دھرمادم سیٹ سے کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے کانگریس کے امیدوار وی پی عبدالرشید کو 18,000 سے زائد ووٹوں سے شکست دی، جبکہ بی جے پی کے امیدوار کے رنجیت تیسرے نمبر پر رہے۔
اس نشست سے یہ وجین کی مسلسل تیسری جیت ہے۔ اس سے قبل وہ کُتھوپارمبا سے تین بار اور پَیّانور سے ایک بار رکن اسمبلی رہ چکے ہیں۔ 2016 میں انہوں نے اسی سیٹ سے 36,000 ووٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی تھی، جبکہ 2021 میں انہوں نے 50,000 ووٹوں کے بڑے فرق سے جیت درج کی تھی۔ کانگریس کی قیادت والا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (یو ڈی ایف) کیرالہ اسمبلی انتخابات میں بڑی جیت کی طرف بڑھ رہا ہے۔
ووٹوں کی گنتی کے رجحانات سے دس سال بعد اقتدار میں واپسی کے واضح اشارے مل رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی وزیر اعلیٰ پنرئی وجین کی قیادت والے لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ (ایل ڈی ایف) کے دورِ حکومت کا خاتمہ متوقع ہے۔ الیکشن کمیشن کے دوپہر 3 بجے کے رجحانات کے مطابق، یو ڈی ایف 140 میں سے 96 نشستوں پر آگے ہے اور آسانی سے اکثریت کا ہدف عبور کر چکا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق کانگریس 64 نشستیں (15 جیت، 49 پر آگے) جب کہ انڈین یونین مسلم لیگ (آئی یو ایم ایل) 22 نشستیں (2 جیت، 20 پر آگے)ہے۔ ریوولوشنری سوشلسٹ پارٹی اور کیرالا کانگریس (جیکب) ایک ایک نشست پر آگے ہیں۔
ریوولوشنری مارکسسٹ پارٹی آف انڈیا ایک نشست جیت چکی ہے۔ دوسری جانب، لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ تقریباً 35 نشستوں تک محدود ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ کیرالہ میں 140 حلقوں کے لیے 9 اپریل کو ووٹنگ ہوئی تھی، جس میں 78.27 فیصد ووٹرز نے حصہ لیا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق، کل 883 امیدوار میدان میں تھے اور ووٹوں کی گنتی سخت سیکیورٹی کے درمیان جاری ہے۔
ایل ڈی ایف حکومت کو اپنی کمزوریوں کے باعث شکست کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اقتدار مخالف لہر (اینٹی انکمبنسی) اور بدعنوانی کے الزامات نے حکومت کی شبیہ کو نقصان پہنچایا۔ دس سالہ حکومت کے بعد عوامی ناراضگی فطری تھی۔ اگرچہ کورونا وبا کے دوران کیے گئے اقدامات سے کچھ فائدہ ملا، لیکن سبریمالا سونا چوری تنازع جیسے معاملات نے حکومت کی ساکھ کو متاثر کیا۔ وزیر اعلیٰ پنرئی وجین اور ان کے قریبی رشتہ داروں پر لگے بدعنوانی کے الزامات نے ان کی ذاتی شبیہ کو بھی نقصان پہنچایا، جس کا براہ راست اثر پارٹی کی کارکردگی پر پڑا۔