نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ کے جسٹس منوج جین کی سربراہی میں قائم بینچ نے پیر کے روز کہا کہ دہلی ایکسائز پالیسی کیس میں تمام فریقون کو اگلی سماعت پر سنا جائے گا، کیونکہ اروند کیجریوال ،منیش سسودیا، درگیش پاٹھک نے موجودہ بینچ کے سامنے کاروائی میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب اس معاملے کی اگلی سماعت 16 جولائی کو مقرر کر دی گئی ہے۔
سماعت کے دوران عدالت نے کہا: ہم اگلی تاریخ پر سب کو سنیں گے۔ ہم اسے جولائی میں کہیں مقرر کریں گے۔ سی بی آئی کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتہ نے تجویز دی کہ اگر جولائی میں تاریخ مقرر کی جا رہی ہے تو سماعت بدھ کو رکھی جا سکتی ہے۔ تاہم جسٹس منوج جین نے جواب دیا:ہم اسے جولائی میں رکھیں گے... ہم رجسٹری سے معلوم کر لیں گے، لگتا ہے کچھ وکالت نامے داخل کیے گئے ہیں۔
اروند کیجریوال، منیش سسودیا اور درگیش پاٹھک اس سے پہلے اس وقت کارروائی کا بائیکاٹ کر رہے تھے جب معاملہ جسٹس Swarana Kanta Sharma کے سامنے زیرِ سماعت تھا۔ پیر کے روز عدالت کو بتایا گیا کہ مقدمہ جسٹس منوج جین کو منتقل ہونے کے بعد تینوں رہنماؤں نے کارروائی میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ مقدمہ سی بی آئی کی اس نظرِ ثانی درخواست سے متعلق ہے جس میں 27 فروری کے زیریں عدالت کے اُس حکم کو چیلنج کیا گیا ہے جس کے تحت کیجریوال اور دیگر ملزمان کو دہلی ایکسائز پالیسی کیس میں بری کیا گیا تھا۔ اس سے قبل دہلی ہائی کورٹ نے سی بی آئی کو ہدایت دی تھی کہ وہ کیجریوال، سسودیا اور پاٹھک کو باضابطہ طور پر آگاہ کرے کہ مقدمہ جسٹس سورنا کانتا شرما سے منتقل ہو کر جسٹس منوج جین کے پاس چلا گیا ہے۔
عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ چونکہ یہ منتقلی ذرائع ابلاغ میں وسیع پیمانے پر رپورٹ ہو چکی ہے، اس لیے عدالت سمجھتی ہے کہ متعلقہ فریق اس تبدیلی سے واقف ہیں۔ گزشتہ سماعت میں عدالت نے کہا تھا: “مثالی صورتحال یہ ہوگی کہ تمام فریق موجود ہوں اور سب کو سنا جائے۔” عدالت نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ تمام فریقین کی حاضری کے بعد یہ دیکھا جائے گا کہ آیا موجودہ عدالتی تقسیم پر کسی کو اعتراض ہے یا نہیں، اس کے بعد ہی سماعت کا باقاعدہ شیڈول طے کیا جائے گا۔
سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے پہلے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اس کیس میں “سنگین الزامات اور سائنسی تحقیقات” شامل ہیں، اور زیریں عدالت کا بریت کا حکم عدالتی جانچ میں برقرار نہیں رہ سکتا۔ یہ کارروائی ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب دہلی ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ نے کیجریوال، سسودیا، Sanjay Singh اور دیگر کے خلاف توہینِ عدالت کی متوازی کارروائیاں بھی شروع کر رکھی ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ایکسائز پالیسی کیس کے سلسلے میں جسٹس سورنا کانتا شرما کے خلاف نامناسب ریمارکس دیے تھے۔