کیجریوال نے جین زی سے نیٹ پیپر لیک ہونے پر احتجاج کرنے کی اپیل کی

Story by  اے این آئی | Posted by  Aamnah Farooque | Date 13-05-2026
کیجریوال نے جین زی سے  نیٹ پیپر لیک ہونے پر احتجاج کرنے کی اپیل کی
کیجریوال نے جین زی سے نیٹ پیپر لیک ہونے پر احتجاج کرنے کی اپیل کی

 



نئی دہلی
عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بدھ کے روز جین زی سے سڑکوں پر اتر کر حکومت کے خلاف احتجاج کرنے کی اپیل کی۔ یہ اپیل نیٹ -یو جی 2026 امتحان منسوخ کیے جانے کے بعد کی گئی، جس کے پیچھے مبینہ طور پر پرچہ لیک اور بے ضابطگیاں وجہ بنی تھیں۔
کیجریوال نے الزام لگایا کہ 2014 سے اب تک امتحانی پرچے لیک ہونے کے 93 سے زیادہ واقعات پیش آ چکے ہیں، جن سے 6 کروڑ سے زائد نوجوان متاثر ہوئے ہیں۔
پرچہ لیک میں سینئر رہنماؤں کی مبینہ شمولیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کیجریوال نے جین زی سے سوال کیا کہ کیا مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی)، جو اس تحقیقات کی قیادت کرے گا، کوئی مؤثر اصلاحی اقدام کر پائے گا۔
ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب سے 2014 میں مودی حکومت اقتدار میں آئی ہے، امتحانی پرچے لیک ہونے کے 93 واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر واقعات بی جے پی حکومتوں کے دور میں ہوئے ہیں۔ اس سے 6 کروڑ نوجوان متاثر ہوئے ہیں۔ پرچہ لیک کے زیادہ تر واقعات بی جے پی اقتدار والی ریاستوں — راجستھان، اتر پردیش، اتراکھنڈ اور گجرات — میں پیش آئے ہیں۔ یہ محض اتفاق نہیں کہ ان ریاستوں اور مرکز میں بی جے پی کی حکومتیں ہیں۔ ہمیں اطلاعات مل رہی ہیں کہ حالیہ نیٹ پرچہ لیک کا مرکزی مرکز راجستھان ہے۔ اس سے ایک شبہ پیدا ہوتا ہے ۔ کیا اس میں ان کے رہنما شامل ہیں؟ اگر ایسا ہے تو سی بی آئی کیا کر سکتی ہے؟ میں جین زی سے پوچھنا چاہتا ہوں: کیا یہ سب اسی طرح چلتا رہنا چاہیے؟
نیپال اور بنگلہ دیش میں جین زی کے احتجاجی مظاہروں کی مثال دیتے ہوئے  کہ  جنہوں نے کے پی اولی اور شیخ حسینہ کی حکومتوں کو اقتدار سے ہٹا دیا تھا  کیجریوال نے کہا کہ اگر نیپال اور بنگلہ دیش کے جین زی سڑکوں پر نکل کر اپنی حکومتیں بدل سکتے ہیں، تو کیا ہمارے جین زی پرچہ لیک میں ملوث وزیروں کو جیل نہیں بھیج سکتے؟ مجھے آپ پر مکمل بھروسہ ہے۔
کیجریوال نے جین زی سے اپیل کی کہ وہ پرچہ لیک میں ملوث افراد کے خلاف سڑکوں پر نکلیں۔ انہوں نے کہا، "جو لوگ اس میں شامل ہیں، ان پر الزامات عائد کریں، انہیں جیل بھیجیں، سڑکوں پر نکلیں، احتجاج کریں اور اس گھناؤنے کھیل کو بند کروائیں۔کئی ریاستوں میں پرچہ لیک کی خبروں کے بعد نیٹ یو جی 2026 امتحان تنازع کا شکار ہو گیا ہے، جس کے بعد دوبارہ امتحان کرانے اور سی بی آئی تحقیقات کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب مرکزی حکومت نے نیٹ -یو جی 2026 امتحان منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ امتحان اصل میں 3 مئی کو منعقد ہوا تھا، لیکن پرچہ لیک اور بے ضابطگیوں کے الزامات کے بعد اسے منسوخ کر دیا گیا۔
حکومت نے اب ان الزامات کی تفصیلی تحقیقات کے لیے معاملہ مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کے حوالے کر دیا ہے۔اس دوران نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) نے کہا کہ یہ فیصلہ مرکزی ایجنسیوں کے ساتھ تال میل کے ذریعے حاصل معلومات کا جائزہ لینے کے بعد کیا گیا۔ تحقیقاتی ایجنسیوں کی جانب سے شیئر کیے گئے نتائج نے امتحانی عمل کی شفافیت پر سوالات کھڑے کر دیے تھے۔ایجنسی نے یہ بھی واضح کیا کہ مئی 2026 کے لیے امیدواروں کا رجسٹریشن ڈیٹا، امیدواروں کی معلومات اور منتخب امتحانی مراکز دوبارہ ہونے والے امتحان کے لیے بھی قابلِ قبول ہوں گے۔ اس کے لیے کسی نئے رجسٹریشن یا اضافی فیس کی ضرورت نہیں ہوگی۔