گلمرگ: گلمرگ گونڈولا کی خدمات منگل کے روز معمول کے مطابق بحال ہو گئیں، ایک دن قبل فنی خرابی کے باعث سروس عارضی طور پر متاثر ہوئی تھی اور کئی کیبل کار کیبن سیاحوں سمیت فضا میں معلق رہ گئے تھے، جس کے بعد بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا تھا۔ ریسکیو کارروائی کامیابی کے ساتھ مکمل کر لی گئی اور تمام پھنسے ہوئے سیاحوں کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ جموں و کشمیر پولیس کے مطابق اس آپریشن کے دوران 286 افراد کو بچایا گیا۔
گلمرگ آنے والے سیاحوں نے امدادی اہلکاروں، مقامی باشندوں اور سیکورٹی فورسز کے فوری ردعمل کو سراہا۔ اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے سوربھ نامی ایک سیاح نے کہا کہ علاقے میں سیکورٹی اہلکاروں کی موجودگی اور مقامی لوگوں کے تعاون کی وجہ سے سیاح خود کو محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’ہم یہاں خود کو بہت محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ سیکورٹی اہلکار ہمیشہ تعینات رہتے ہیں اور مقامی لوگ بے حد مددگار ہیں۔ وہ اوپر چڑھے، سب کو بچایا، ان کی مدد کی اور بحفاظت واپس لے آئے۔ کسی کو کوئی بڑی پریشانی پیش نہیں آئی۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ تمام افراد کو محفوظ نکال لیا گیا۔‘
‘ مزید سیاحوں کو گلمرگ آنے کی ترغیب دیتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’لوگوں کو بلا خوف یہاں آنا چاہیے۔ ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ رات دیر گئے بھی یہاں آزادانہ گھوما جا سکتا ہے۔‘‘ ممبئی سے آئے ایک اور سیاح ونیت بکل، جو اپنے خاندان کے ساتھ گلمرگ آئے ہوئے تھے، نے کہا کہ انہوں نے ریسکیو کارروائی اپنی آنکھوں سے دیکھی۔
انہوں نے کہا، ’’ہم گزشتہ دو دن سے گلمرگ میں ہیں اور اب تک ہمارا تجربہ بہت اچھا رہا ہے۔ موسم خوشگوار ہے، نہ زیادہ سردی ہے اور نہ زیادہ گرمی۔‘‘ واقعے کو یاد کرتے ہوئے بکل نے کہا کہ ان کا خاندان بال بال بچ گیا۔ انہوں نے بتایا، ’’کل ہم فیز 1 اور فیز 2 دونوں مقامات پر گئے تھے۔
فیز 1 پر ہماری باری آنے ہی والی تھی کہ فنی خرابی پیش آ گئی اور ہمیں پیدل واپس نیچے آنا پڑا۔ گائیڈز اور ریسکیو ٹیموں نے بغیر کوئی رقم لیے ہمیں اور ہمارے بچوں کو بحفاظت نیچے اتارا۔‘‘ انہوں نے مقامی لوگوں کی بھی تعریف کی جو پھنسے ہوئے مسافروں کی مدد اور ریسکیو ٹیموں کے تعاون میں مصروف تھے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم نے دیکھا کہ مقامی لوگ گونڈولا میں پھنسے افراد کی مدد کر رہے تھے اور فوجی اہلکاروں کا بھی تعاون کر رہے تھے۔ اس وقت صورتحال خوفناک تھی، لیکن مجموعی طور پر تجربہ مثبت رہا۔‘‘