حیدرآباد
سابق بی آر ایس (بھارت راشٹرا سمیتی) رہنما کے کویتا نے ہفتہ کے روز اپنی نئی سیاسی جماعت تلنگانہ راشٹرا سینا (ٹی آر ایس) کا آغاز کر دیا، جو انہوں نے بی آر ایس سے علیحدگی کے تقریباً سات ماہ بعد قائم کی ہے۔حیدرآباد میں ایک تقریب کے دوران کے کویتا نے اعلان کیا کہ ان کی پارٹی کا نام ٹی آر ایس ہوگا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے والد اور تلنگانہ کے سابق وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ نے بھی ابتدا میں اپنی جماعت کا نام تلنگانہ راشٹرا سمیتی (ٹی آر ایس) رکھا تھا، جسے بعد میں تبدیل کر کے بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) کر دیا گیا تھا۔
اس سے قبل آج کے کویتا نے حیدرآباد کے گن پارک میں واقع امراویرولا اسٹوپم پر 1969 کی تلنگانہ تحریک میں جان گنوانے والے افراد کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔جمعہ کے روز کویتا نے ریاست میں ایک نئی علاقائی سیاسی قوت قائم کرنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ جماعت تلنگانہ کی "امیدوں اور نامکمل ایجنڈے" پر توجہ دے گی۔
اے این آئی سے بات کرتے ہوئے کویتا نے کہا کہ انہیں اور ان کے حامیوں کو بی آر ایس سے "نکالا گیا" ہے اور انہوں نے خود پارٹی نہیں چھوڑی۔انہوں نے کہا کہ بی آر ایس پارٹی تلنگانہ کی علاقائی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے بنائی گئی تھی، لیکن انہوں نے پارٹی کا نام، کام اور اس کی روح ہی بدل دی، جس کے نتیجے میں عوام کے ساتھ ان کا تعلق کمزور ہو گیا۔ جب کوئی پارٹی اپنے بنیادی مقصد سے ہٹ جائے تو وہ قائم نہیں رہ سکتی۔ ہمیں تلنگانہ کے نامکمل ایجنڈے اور امیدوں کے لیے ایک علاقائی پارٹی کی ضرورت ہے، اور وہی ہماری پارٹی ہوگی۔
تلنگانہ جاگرُتی کی سربراہ نے مزید کہا، "بی آر ایس پارٹی، جس کے صدر میرے والد ہیں، نے ہمیں نکال دیا ہے۔ ہم نے نہ خاندان چھوڑا ہے اور نہ پارٹی، بلکہ ہمیں نکالا گیا ہے۔ میں اس پر زیادہ بات نہیں کرنا چاہتی۔ لیکن میں تلنگانہ کی بیٹی ہوں، میرے اندر تلنگانہ کا خون اور حوصلہ ہے۔ ہم بہت مضبوط ارادے والے اور اپنے مقصد کے لیے پُرعزم ہیں۔ ہم نے اپنی زندگی کے 20 سال تلنگانہ تحریک میں گزارے ہیں۔ تلنگانہ کی ترقی اور اس کی امیدوں کی تکمیل کے لیے، چاہے ہماری پرانی پارٹی ہمارے ساتھ ہو یا نہ ہو، چاہے ہمارا خاندان ہمارے ساتھ ہو یا نہ ہو، مجھے یقین ہے کہ تلنگانہ کے عوام ہی میرا خاندان ہیں۔ تلنگانہ کی مٹی کی خوشبو ہمیں آگے بڑھنے کی طاقت دے گی۔
بی آر ایس سے کویتا کی علیحدگی نے اس وقت نیا رخ اختیار کیا جب ستمبر 2025 میں انہیں مبینہ "پارٹی مخالف سرگرمیوں" کے الزام میں معطل کر دیا گیا۔ یہ معطلی بی آر ایس رہنماؤں ٹی ہریش راؤ اور جے سنتوش راؤ کے خلاف ان کے بیانات کے بعد عمل میں آئی۔
معطلی کے بعد کویتا نے ہریش راؤ اور سنتوش راؤ پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونتھ ریڈی کے ساتھ مل کر "ہمارے خاندان اور پارٹی کو تباہ کرنے کی سازش" کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس کے ساتھ ہی ایم ایل سی کے عہدے سے بھی استعفیٰ دے دیا تھا۔
پارٹی سے معطلی کے بعد کویتا نے اپنی غیر سرکاری تنظیم تلنگانہ جاگرُتی بھی قائم کی۔