نئی دہلی: مرکزی وزیر صحت اور خاندانی بہبود جے پی نڈا نے منگل کے روز قومی دارالحکومت کے رام منوہر لوہیا (آر ایم ایل) اسپتال کا دورہ کیا اور پیر کو سی جے پی کے احتجاجی مارچ کے بعد پولیس کارروائی میں زخمی ہونے والے افراد کی عیادت کی۔
جے پی نڈا نے اسپتال میں زیر علاج زخمی مظاہرین سے ملاقات کی اور ان کی خیریت دریافت کی۔ اس موقع پر انہوں نے ڈاکٹروں کے ساتھ ایک جائزہ اجلاس بھی کیا جس میں زخمیوں کی صحت اور انہیں فراہم کیے جانے والے علاج کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ علاج معالجے کے انتظامات کا معائنہ کرنے اور زخمی افراد سے ملاقات کے بعد وہ اسپتال سے روانہ ہوگئے۔
ادھر لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی اور کانگریس کی رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے بھی آر ایم ایل اسپتال پہنچ کر زخمی مظاہرین سے ملاقات کی۔
واضح رہے کہ پیر کو سی جے پی کا پارلیمنٹ کی جانب احتجاجی مارچ پرتشدد ہوگیا تھا۔ دہلی پولیس کے مطابق جھڑپوں میں پولیس کے 118 سے زائد اہلکار زخمی ہوئے جبکہ تقریباً 60 مظاہرین بھی زخمی ہوئے۔
پولیس کا الزام ہے کہ مظاہرین نے اہلکاروں پر پتھراؤ کیا اور دیگر اشیا پھینکیں۔ بیریکیڈ توڑنے کی کوشش کی۔ پولیس اور سرکاری گاڑیوں میں توڑ پھوڑ کی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا۔ پولیس نے کنّاٹ پلیس اور پارلیمنٹ اسٹریٹ میں مبینہ پتھراؤ اور توڑ پھوڑ کے سلسلے میں نامعلوم افراد کے خلاف مقدمات درج کیے ہیں۔
پیر کے روز سی جے پی کے ایک وفد نے مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا سے ملاقات کرکے متعدد مطالبات پیش کیے تھے جن میں مرکزی وزیر تعلیم پردھان کے استعفے کا مطالبہ۔ نیٹ امیدواروں میں جان گنوانے والوں کے اہل خانہ کو ایک کروڑ روپے معاوضہ دینے اور ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی فوری رہائی شامل تھی۔ سونم وانگچک اس وقت صفدر جنگ اسپتال میں زیر علاج ہیں۔
سی جے پی کے چیف ترجمان سورَو داس نے کہا کہ جب تک پردھان استعفیٰ نہیں دیتے احتجاج جاری رہے گا۔ جے پی نڈا نے کہا کہ مظاہرین کی جانب سے حکومت کے ساتھ مذاکرات کی تجویز موصول ہوئی ہے اور انہوں نے دھرنا ختم کرنے کی اپیل بھی کی۔
دریں اثنا صفدر جنگ اسپتال کی جانب سے جاری تازہ میڈیکل بلیٹن میں کہا گیا ہے کہ سونم وانگچک کی نگرانی ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم کر رہی ہے۔ ان کی عمومی طبی حالت مستحکم ہے تاہم خون میں شکر کی مقدار اب بھی کم ہے جبکہ سیرم پوٹاشیم کی سطح 3.2 ایم ای کیو فی لیٹر ریکارڈ کی گئی ہے۔
اسپتال کے مطابق سونم وانگچک کو منہ کے ذریعے پانی اور نمکیات کی فراہمی اور پوٹاشیم سپلیمنٹ دیے جا رہے ہیں لیکن وہ طبی مشورے کے باوجود نس کے ذریعے سیال مادے اور گلوکوز لینے سے مسلسل انکار کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ سونم وانگچک نیٹ امتحان کے پرچہ لیک معاملے پر مرکزی وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے کے ساتھ جنتر منتر پر بھوک ہڑتال کر رہے تھے۔ 18 جولائی کو دہلی پولیس انہیں صفدر جنگ اسپتال منتقل کر کے لے گئی تھی۔