نئی دہلی: تئیس سیاسی جماعتوں اور ایک آزاد رکن پارلیمنٹ نے منگل کے روز چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریا کانت کو خصوصی جامع نظرثانی (SIR) کے عمل، الیکشن کمیشن کے کردار اور انتخابات سے متعلق دیگر امور پر مشترکہ خط ارسال کیا۔ خط پر دستخط کرنے والوں میں انڈیا اتحاد (INDIA Bloc) کی تمام بڑی جماعتوں کے علاوہ عام آدمی پارٹی (اے اے پی) اور ڈی ایم کے بھی شامل ہیں، حالانکہ یہ دونوں جماعتیں اتحاد سے خود کو الگ کر چکی ہیں۔
کانگریس کے جنرل سیکریٹری جئے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں "یکجہتی، اتحاد اور مزاحمت" کے اصول پر مضبوطی سے قائم ہیں۔ انہوں نے لکھا، "8 جون 2026 کو انڈیا جن بندھن کی میٹنگ میں 21 سیاسی جماعتوں اور ایک آزاد رکن نے شرکت کی، جہاں یہ فیصلہ کیا گیا کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ایس آئی آر عمل اور انتخابات سے متعلق دیگر مسائل پر چیف جسٹس آف انڈیا کو مشترکہ خط لکھا جائے۔
" رمیش نے بتایا کہ اسی فیصلے کے تحت آج 23 سیاسی جماعتوں اور ایک آزاد رکن کے دستخطوں پر مشتمل مشترکہ خط چیف جسٹس کو بھیج دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس خط پر کانگریس صدر ملکارجن کھرگے، لوک سبھا میں قائدِ حزب اختلاف راہل گاندھی، ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی، آر جے ڈی کے رہنما تیجسوی یادو، سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو، جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، بائیں بازو کی جماعتوں کے رہنماؤں اور آزاد رکن پارلیمنٹ کپل سبل سمیت دیگر رہنماؤں نے دستخط کیے ہیں۔
ترنمول کانگریس کے رہنما ڈیرک او برائن نے کہا کہ اس مشترکہ خط پر عام آدمی پارٹی اور ڈی ایم کے نے بھی دستخط کیے ہیں۔ انہوں نے ایکس پر لکھا، "انڈیا اتحاد کی جانب سے یہ ایک مثبت پیش رفت ہے، اور ہاں، عام آدمی پارٹی اور ڈی ایم کے نے بھی چیف جسٹس کو بھیجے گئے مشترکہ خط پر دستخط کیے ہیں۔" بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈیرک او برائن نے کہا کہ یہ خط انڈیا اتحاد کی تمام جماعتوں کی مشترکہ کوشش کا نتیجہ ہے۔ اپوزیشن کے ایک سینئر رہنما نے، جو اس پیش رفت سے واقف ہیں، بتایا کہ اس خط کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ جب تمام ادارے ناکام ہو جائیں تو بھارتی جمہوریت کی امید عدلیہ سے وابستہ ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا، "یہ خط عدلیہ کے ضمیر سے اپیل کرتا ہے۔ عدلیہ کو دیکھنا ہوگا کہ آج ملک میں کیا ہو رہا ہے۔ جب ہر راستہ بند ہو جائے تو آخر عوام کس کی طرف رجوع کریں؟" ذرائع کے مطابق خط میں الیکشن کمیشن آف انڈیا کے کردار کا بھی ذکر کیا گیا ہے اور مختلف ریاستوں میں ایس آئی آر کے عمل سے عوام پر پڑنے والے اثرات کی مثالیں بھی پیش کی گئی ہیں۔