جھارکھنڈ :کانگریس انصاف کے لیے احتجاج کرنے والے طلبہ کے ساتھ

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 06-08-2026
جھارکھنڈ :کانگریس انصاف کے لیے احتجاج کرنے والے طلبہ کے ساتھ
جھارکھنڈ :کانگریس انصاف کے لیے احتجاج کرنے والے طلبہ کے ساتھ

 



رانچی: جھارکھنڈ کانگریس کے انچارج کے راجو نے جمعرات کو جے پی ایس سی اور جے ایس ایس سی سمیت مختلف تقرری امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے ہیمنت سورین حکومت کی جانب سے طلبہ سے بات چیت کے لیے وزارتی کمیٹی تشکیل دینے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا۔

ایکس پر ایک پوسٹ میں کے راجو نے کہا، ’’جھارکھنڈ کانگریس انصاف کے لیے احتجاج کرنے والے طلبہ کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ انڈین یوتھ کانگریس (آئی وائی سی) اور نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) کے رہنماؤں، این ایس یو آئی کے قومی صدر اور آئی وائی سی کے قومی سکریٹری نے بھی احتجاج میں شرکت کر کے طلبہ سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ کے راجو نے کہا کہ ان کی قیادت میں جھارکھنڈ کانگریس کے رہنماؤں نے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین سے ملاقات کی اور اس معاملے پر ایک یادداشت پیش کی۔

انہوں نے کہا، ’’ہم وزیر اعلیٰ کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے طلبہ کے جذبات کو سمجھتے ہوئے احتجاج کرنے والے طلبہ سے مشاورت کے لیے وزارتی کمیٹی تشکیل دی، جو قابل عمل سفارشات پیش کرے گی۔ ہمارے طلبہ کو انصاف دلانا ہماری اولین ترجیح ہے۔‘‘ دریں اثنا، جے پی ایس سی، جے ایس ایس سی سی جی ایل اور دیگر تقرری امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہ کیے گئے تو 10 اگست کو جھارکھنڈ اسمبلی کا گھیراؤ کیا جائے گا۔

یہ اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب جھارکھنڈ اسمبلی کا مانسون اجلاس جمعرات سے شروع ہو رہا ہے اور امکان ہے کہ امتحانات میں بے ضابطگیوں کا معاملہ اجلاس کا اہم سیاسی موضوع بنے گا۔ احتجاجی طلبہ کے نمائندے رادھے کمار نے اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے بعض افسران، جن میں سب ڈویژنل افسر (ایس ڈی او) بھی شامل تھے، ان سے ملاقات کے لیے آئے تھے اور انہیں طلبہ کے مطالبات سے آگاہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا، ’’10 اگست کو اسمبلی کا گھیراؤ کیا جائے گا۔ اگر ہمارے مطالبات پورے نہ ہوئے تو لاکھوں طلبہ اسمبلی کی طرف مارچ کریں گے۔‘‘

رادھے کمار نے کہا کہ طلبہ کا بنیادی مطالبہ جے پی ایس سی، جے ایس ایس سی سی جی ایل اور ٹی ایس آر ڈیٹا پروسیسنگ پرائیویٹ لمیٹڈ (ٹی ڈی پی ایل) کے ذریعے کرائے گئے تمام تقرری امتحانات کو منسوخ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم چاہتے ہیں کہ ان تمام امتحانات کو منسوخ کیا جائے، اس کے بعد سی بی آئی اور ای ڈی سے تحقیقات کرائی جائیں اور جے ایس ایس سی، جے پی ایس سی اور سی جی ایل امتحانی نظام میں بنیادی اصلاحات نافذ کی جائیں۔‘‘ رادھے کمار نے الزام لگایا کہ جھارکھنڈ کے قیام کے بعد گزشتہ 26 برسوں سے طلبہ کے ساتھ مسلسل ناانصافی ہوتی رہی ہے۔

انہوں نے کہا، ’’ہم نے بار بار احتجاج کیا، ہر بار ہماری آواز دبانے کی کوشش کی گئی، لیکن 2026 میں شروع ہونے والی یہ تحریک دبنے والی نہیں ہے۔‘‘ دوسری جانب ریاستی وزیر رادھا کرشن کشور نے کہا کہ حکومت طلبہ سے ہر معاملے پر بات چیت کے لیے پوری طرح تیار ہے اور اسی مقصد کے لیے کابینہ کے وزراء پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’یہ کمیٹی طلبہ کے مسائل سنے گی، حکومت اور طلبہ کے درمیان رابطے کا ذریعہ بنے گی اور انصاف کو یقینی بنانے کے لیے کام کرے گی۔ ہم طلبہ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ جلد از جلد حکومت کے ساتھ مذاکرات شروع کریں، کیونکہ حکومت ہمیشہ بات چیت کے لیے تیار ہے۔‘

‘ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کی قیادت میں ریاستی حکومت جے پی ایس سی اور دیگر تقرری اداروں میں مبینہ بے ضابطگیوں کے معاملے پر پوری سنجیدگی اور حساسیت کے ساتھ کارروائی کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے بھی اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا ہے۔ واضح رہے کہ رانچی میں طلبہ کئی روز سے احتجاج کر رہے ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ متنازع تقرری امتحانات کو منسوخ کیا جائے، آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں اور ریاست کے تقرری نظام میں طویل مدتی اصلاحات نافذ کی جائیں۔