بنگلورو: جنتا دل (سیکولر) کے ریاستی یوتھ صدر نکھل کمار سوامی نے پیر کے روز کرناٹک کی کانگریس حکومت کو ریاست کے عوامی نقل و حمل کے نظام کی ابتر حالت پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دیکھ بھال کے لیے فنڈز کی کمی کے باعث کے کے آر ٹی سی کی ایک بس رات کے وقت ہیڈ لائٹ کے بجائے موبائل فون کی ٹارچ کی روشنی میں چلائی گئی۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ریاستی حکومت نے پی ایم ای-ڈرائیو اسکیم کے تحت بنگلورو میٹروپولیٹن ٹرانسپورٹ کارپوریشن (بی ایم ٹی سی) کو منظور شدہ 4,500 برقی بسوں کے لیے اب تک لیٹر آف ایوارڈ (ایل او اے) جاری نہیں کیا۔ سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں نکھل کمار سوامی نے کہا کہ ایک طرف فنڈز کی قلت کے باعث کے کے آر ٹی سی کی بس رات میں صرف موبائل کی ٹارچ کے سہارے چل رہی ہے، جبکہ دوسری طرف نئی بسوں کی شمولیت کے معاملے میں کانگریس حکومت کی انتظامی ناکامی کھل کر سامنے آ گئی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ مرکزی وزیر ایچ ڈی کمار سوامی کی وزارتِ بھاری صنعت نے پی ایم ای-ڈرائیو اسکیم کے تحت بی ایم ٹی سی کو 4,500 برقی بسیں منظور کی تھیں، لیکن دسمبر 2025 میں منظوری کی اطلاع ملنے کے باوجود ریاستی حکومت نے اب تک لیٹر آف ایوارڈ جاری نہیں کیا، جس کی وجہ سے پورا منصوبہ تعطل کا شکار ہے۔ نکھل کمار سوامی نے مزید الزام لگایا کہ ریاستی حکومت پر شکتی اسکیم کے تحت 4,573 کروڑ روپے کی ادائیگیاں واجب الادا ہیں، جس کے باعث موجودہ بسوں کی بنیادی مرمت بھی متاثر ہو رہی ہے، جبکہ حکومت اپنی نااہلی کے سبب مفت ملنے والی 4,500 نئی برقی بسوں کو بھی سڑک پر نہیں لا سکی۔
ادھر جے ڈی (ایس) کے رکن قانون ساز کونسل (ایم ایل سی) بھوجے گوڑا نے کہا کہ یہ مسئلہ کسی ایک واقعے تک محدود نہیں بلکہ ریاست بھر میں کے ایس آر ٹی سی کی بیشتر بسیں ناقص دیکھ بھال کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئی بسیں ڈپو میں آنے کے بعد اگر انہیں کم از کم چھ ماہ تک ایک ہی ڈرائیور اور کنڈکٹر کے حوالے رکھا جائے تو وہ ان کی بہتر دیکھ بھال کریں گے۔
ان کے مطابق اس وقت مرمت کے بعد بسیں دوسرے عملے کو دے دی جاتی ہیں، جو مناسب طریقہ نہیں۔ بھوجے گوڑا نے کہا کہ اگر بسوں کی مناسب دیکھ بھال نہ ہو تو ڈرائیور اور کنڈکٹر کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا، کیونکہ بڑی خرابیوں کی مرمت مکینک کرتے ہیں، لیکن بعد میں بس کسی اور کے حوالے کر دی جاتی ہے۔
انہوں نے کے ایس آر ٹی سی کے لیے ٹائروں کی خریداری میں بھی بے ضابطگیوں کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ نئے ٹائر خریدنے کے لیے رقم مختص ہونے کے باوجود زیادہ تر ٹائروں کی ری ٹریڈنگ کی جاتی ہے، جس سے بدعنوانی کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ افسران ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے انتظام کو مؤثر انداز میں نہیں چلا رہے اور انہوں نے سوال اٹھایا کہ ادارے کے چیئرمین اور ذمہ دار افسران نے اب تک اس مسئلے کے حل کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں۔