تل ابیب
اسرائیلی فضائیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے تہران کے مہرآباد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایران کی قیادت کے زیرِ استعمال ایک طیارے کو کامیابی کے ساتھ نشانہ بنا کر تباہ کر دیا ہے، جسے حکومت کی تزویراتی نقل و حرکت کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ایکس پر جاری بیان میں اسرائیلی فضائیہ نے اس حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس نے “تہران کے مہرآباد ہوائی اڈے پر ایرانی دہشت گرد حکومت کے رہنما کے طیارے کو تباہ کر دیا ہے۔
اس طیارے کو ایک اہم لاجسٹک اور سفارتی وسیلہ قرار دیا گیا ہے، جو سابق ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای، حکومت کے دیگر اعلیٰ حکام اور ایرانی فوج کے بعض عناصر کے استعمال میں تھا۔
اسرائیلی فضائیہ کے مطابق یہ طیارہ فوجی سازوسامان کی فراہمی کو آگے بڑھانے اور اتحادی ممالک کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھنے کے لیے اندرونِ ملک اور بین الاقوامی پروازوں میں استعمال کیا جاتا تھا۔ اسی وجہ سے اس کارروائی کا مقصد تہران اور اس کے علاقائی اتحادیوں کے درمیان عملی رابطے کو متاثر کرنا تھا۔
فوجی حکام کے مطابق، اس طیارے کی تباہی سے ایرانی قیادت اور اس کے اتحادی ممالک کے درمیان رابطہ کاری کی صلاحیت متاثر ہوئی ہے، جس سے فوجی طاقت بڑھانے اور نظام کی بحالی کی صلاحیت کو نقصان پہنچے گا۔اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس اہم ہدف کو ختم کر کے ایران کے فوجی اور سفارتی نیٹ ورک کو بڑا نقصان پہنچایا گیا ہے اور یوں ایرانی حکومت کا ایک اور اہم تزویراتی وسیلہ ختم کر دیا گیا ہے۔
یہ حملہ ایک وسیع اور شدید فضائی مہم کا حصہ ہے۔ اسرائیلی فضائیہ نے اتوار (مقامی وقت) کو بتایا کہ گزشتہ ایک دن کے دوران مغربی اور وسطی ایران میں 200 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں میں فوجی ڈھانچے، میزائل نظام، دفاعی تنصیبات اور آپریشنل ہیڈکوارٹرز شامل تھے۔
ایکس پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی فضائیہ نے کہا كہ گزشتہ ایک دن کے دوران فضائیہ نے مغربی اور وسطی ایران میں 200 سے زیادہ اہداف پر حملے کیے ہیں اور ایرانی حکومت کے بیلسٹک میزائل نظام اور دفاعی نظام کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔فوج نے بتایا کہ نشانہ بنائے گئے مقامات میں ایسے ہیڈکوارٹرز بھی شامل تھے جہاں ایرانی فوجی اہلکار تعینات تھے، دفاعی نظام اور جنگی سازوسامان کی تیاری اور ذخیرہ کرنے کے مراکز بھی شامل ہیں۔
یہ حملے ایران کے بیلسٹک میزائل نیٹ ورک اور فضائی دفاعی نظام کو کمزور کرنے کے لیے جاری ایک وسیع مہم کا حصہ ہیں، جو ملک کے مختلف علاقوں میں جاری ہے۔ان طویل فاصلے کے حملوں کو انجام دینے کے لیے اسرائیل نے اپنی جدید ترین فضائی ٹیکنالوجی استعمال کی ہے۔ اس سے قبل ایک پوسٹ میں اسرائیلی فضائیہ نے اپنے اسٹیلتھ لڑاکا طیاروں کی ویڈیو بھی شیئر کی تھی جو اس مشن کے لیے ایران کی جانب روانہ ہو رہے تھے۔
بیان میں کہا گیا كہ یہ ہے ادیر اور وہ بھی ایران کی جانب جا رہا ہے۔ ایف-35 آئی ادیر طیاروں کی خصوصی ویڈیو جو حملے کے لیے روانہ ہو رہے ہیں۔یہ لاک ہیڈ مارٹن ایف-35 آئی ادیر طیارے اسرائیلی فضائیہ کی جدید ترین جنگی صلاحیت کی علامت ہیں اور ان کی تعیناتی سے موجودہ فضائی کارروائیوں کی پیچیدگی اور وسعت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔