تل ابیب
اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے جمعرات کے روز اسرائیلی عوام کا ان کی ثابت قدمی پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ایران اب پہلے سے کہیں زیادہ کمزور ہو چکا ہے۔نیتن یاہو نے کہا کہ ابھی ان کے کچھ اہداف باقی ہیں جنہیں مکمل کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں آپ سب، اپنی عظیم قوم کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ جب آپ بم شیلٹروں اور محفوظ کمروں میں بیٹھ کر ثابت قدمی دکھا رہے تھے، تو ہم نے مل کر بڑی کامیابیاں حاصل کیں۔ ہمارے محاذ پر لڑنے والے سپاہی اور آپ جو گھروں میں موجود تھے — سب نے اپنا کردار ادا کیا۔ لیکن سب سے بڑھ کر میں ان عزیزوں کے سامنے سر جھکاتا ہوں جو اس جنگ میں شہید ہوئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ میں غمزدہ خاندانوں کو گلے لگانے کی اپیل کرتا ہوں اور آپ سب کی طرف سے ہمارے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتا ہوں۔ میرے بھائیو اور بہنو، اسرائیل نے عظیم کامیابیاں حاصل کی ہیں، ایسی کامیابیاں جو کچھ عرصہ پہلے تک ناقابلِ یقین لگتی تھیں۔ ایران پہلے سے کہیں زیادہ کمزور ہے اور اسرائیل پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔نیتن یاہو نے کہا کہ وہ اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے معاہدے یا جنگ، دونوں راستوں کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہی اس مہم کا خلاصہ ہے۔ میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے کچھ اہداف ابھی باقی ہیں اور ہم انہیں یا تو معاہدے کے ذریعے حاصل کریں گے یا پھر جنگ دوبارہ شروع کر کے۔دوسری جانب، اسرائیلی فوج نے بیروت میں حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم کے ذاتی سیکریٹری علی یوسف حرشی کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایک بیان میں کہا گیا کہ علی یوسف حرشی کو ختم کر دیا گیا، جو نعیم قاسم کے قریبی ساتھی اور ذاتی مشیر تھے، اور ان کے دفتر کے انتظام اور سکیورٹی میں اہم کردار ادا کرتے تھے۔ اسرائیلی فوج نے دریائے لیتانی کے جنوب میں حزب اللہ کی جانب سے ہتھیار منتقل کرنے کے لیے استعمال ہونے والے دو اہم راستوں کو بھی نشانہ بنایا، اس کے ساتھ تقریباً دس اسلحہ گوداموں، لانچر اور کمان مراکز پر بھی حملے کیے گئے۔
بنیامین نیتن یاہو نے یہ بھی کہا کہ لبنان امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی جنگ بندی کا حصہ نہیں ہے۔ اسی طرح امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی کہا کہ ہم نے ایسا کوئی وعدہ نہیں کیا تھا۔