نئی دہلی : سابق وزیر مملکت برائے خارجہ امور ایم جے اکبر نے کہا ہے کہ مغربی ایشیا میں جاری موجودہ تنازع ایک نئے عالمی نظام کے آغاز کا سبب بنے گا۔
انہوں نے اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خلیجی بحران کے تناظر میں اقوام متحدہ کے منشور کی حرمت اب کمزور ہو چکی ہے۔
ایم جے اکبر نے کہا کہ موجودہ جنگ ایک نئے عالمی نظام کی پرتشدد پیدائش ہے اور بعض اوقات دنیا کو کسی نئی ترتیب کے لیے انتشار سے گزرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوسری جنگ عظیم کی بھاری جانی قربانیوں کے بعد ہی اقوام متحدہ کا قیام عمل میں آیا تھا اور 1946 میں بننے والے اقوام متحدہ کے منشور نے قومی خودمختاری کو عالمی استحکام کی بنیاد بنایا تھا لیکن اب اس کی اہمیت متاثر ہو چکی ہے۔
انہوں نے مارگریٹ تھیچر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو کوئی بھی قوم محفوظ نہیں رہتی اور آج پھر دنیا اسی صورتحال سے دوچار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ایک نیا عالمی نظام تشکیل دینا ہوگا جس میں وقت لگے گا اور بھارت اس عمل میں اہم شراکت دار بن سکتا ہے کیونکہ اب کوئی ایک ملک اکیلے ایسا نظام قائم نہیں کر سکتا۔
پاکستان کی ثالثی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کوشش کا آغاز تو زور دار تھا لیکن انجام کمزور رہا اور یہ پہلے سے اندازہ لگایا جا سکتا تھا کیونکہ کسی بھی حل کے لیے اصل فریقین کے درمیان بات چیت ضروری ہوتی ہے۔ ان کے مطابق اس معاملے میں اصل فریق امریکہ اور ایران ہیں جو براہ راست مذاکرات کے بجائے بالواسطہ پیغامات کے ذریعے رابطہ رکھتے ہیں کیونکہ براہ راست بات چیت دونوں کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب الجزیرہ کے مطابق امریکہ اور اسرائیل نے ایران میں حملے تیز کر دیے ہیں جن میں تہران کے ایک سو سال پرانے طبی تحقیقی مرکز ایک پل اور اسٹیل پلانٹس کو نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت دھمکیاں بھی دی ہیں۔