نئی دہلی
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے بعد، جو اس مہینے کے آغاز میں اسرائیل اور یونائیٹڈ اسٹیٹس کے حملوں میں مارے گئے تھے، قومی دارالحکومت نئی دہلی میں ایران کے ایمبیسی میں ایک تعزیتی اجلاس منعقد کیا گیا۔
اس دعائیہ اجلاس میں راجیہ سبھا کے ایم پی کپل سبل نے شرکت کی۔ انہوں نے خامنہ ای کے قتل پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ برسوں میں قواعد پر مبنی عالمی نظام کمزور ہوتا جا رہا ہے، اور اس طرح کی پیش رفت نہ عالمی امن کے لیے اچھی ہے اور نہ ہی کسی بھی ملک کے لیے۔
سبل کے علاوہ کئی دیگر رہنما بھی آیت اللہ خامنہ ای کی دعائیہ تقریب میں شرکت کے لیے پہنچے۔کپل سبل نے رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا كہ میں یہاں آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کے طریقے پر دلی اور گہری تعزیت پیش کرنے آیا ہوں۔ میرا ذاتی ماننا ہے کہ ہر قوم یہ سمجھتی ہے کہ تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے، نہ کہ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے استعمال سے۔ عالمی نظام کو برقرار رکھنے کے لیے ایسا کرنا ضروری ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں قواعد پر مبنی عالمی نظام کو کمزور کیا جا رہا ہے۔ یہ نہ عالمی امن کے لیے اچھا ہے اور نہ ہی کسی ملک کے لیے۔
ادھر نئی دہلی میں ایرانی ایمبیسی نے خامنہ ای کی موت پر سوگ کے اظہار کے طور پر اپنا پرچم سرنگوں کر دیا۔اس سے قبل حیدرآباد میں اسلامک ریپبلک آف ایران کے قونصل خانہ جنرل میں بڑی تعداد میں لوگ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو خراج عقیدت پیش کرنے پہنچے اور “کنڈولینس بک” پر دستخط کیے تاکہ سوگ کی اس گھڑی میں ایران کے عوام کے ساتھ اپنی ہمدردی ظاہر کر سکیں۔
ایران کے وائس قونصل محسن مقدم نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے جمعرات کو کہا كہ آج ہم نے کنڈولینس بک کھولی ہے تاکہ ہندوستانی شہری، جو ہمارے عظیم شہید اور محبوب خامنہ ای سے محبت رکھتے ہیں، آئیں اور ایرانی عوام اور آیت اللہ خامنہ ای کو خراج عقیدت پیش کریں۔
یہ پیش رفت مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان سامنے آئی ہے، جب ہفتہ کے روز یونائیٹڈ اسٹیٹس اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی میں ایرانی سرزمین پر حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور دیگر سینئر شخصیات کی موت ہوگئی، جس کے بعد تہران کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا۔
جوابی کارروائی میں ایران نے متعدد عرب ممالک کی سمت ڈرون اور میزائل حملوں کی لہریں شروع کر دیں، اور اب یہ تنازع ساتویں دن میں داخل ہو چکا ہے۔