بنگال میں بی جے پی اقتدار میں آئی تو دراندازوں کو نکالا جائے گا: پی ایم مودی

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 11-04-2026
بنگال میں بی جے پی اقتدار میں آئی تو دراندازوں کو نکالا جائے گا: پی ایم مودی
بنگال میں بی جے پی اقتدار میں آئی تو دراندازوں کو نکالا جائے گا: پی ایم مودی

 



کٹوا: وزیر اعظم نریندر مودی نے مغربی بنگال میں دراندازی اور فلاحی امور پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا مؤقف واضح کرتے ہوئے وعدہ کیا کہ ریاست میں اقتدار میں آنے پر متوا اور نامشدر پناہ گزین خاندانوں کو شہریت دینے کے عمل کو تیز کیا جائے گا۔

مشرقی بردوان ضلع کے کٹوا میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے پناہ گزینوں کو شہریت دینے کے لیے شہریت (ترمیمی) قانون (سی اے اے) نافذ کیا، جبکہ برسراقتدار ترنمول کانگریس لوگوں میں خوف پھیلانے کی کوشش کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا، “میں متوا اور نامشدر پناہ گزین خاندانوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ وہ ملک کے آئین کے تحفظ میں ہیں۔ مودی نے سی اے اے قانون اسی لیے بنایا تاکہ متوا، نامشدر اور تمام پناہ گزینوں کو شہریت مل سکے۔ وزیر اعظم نے کہا، اگر بی جے پی کی حکومت بنتی ہے تو سی اے اے کے تحت تمام اہل درخواست دہندگان کو شہریت دینے کے عمل کو تیز کیا جائے گا۔

جنوبی بنگال کے کئی اضلاع میں پھیلا متوا برادری انتخابی لحاظ سے ایک بااثر طبقہ سمجھا جاتا ہے اور شہریت کا مسئلہ طویل عرصے سے سیاسی طور پر حساس رہا ہے۔ مودی نے غیر قانونی دراندازی کے مسئلے پر حملہ تیز کرتے ہوئے کہا کہ اگر بی جے پی اقتدار میں آئی تو “دراندازوں” کو مغربی بنگال چھوڑنا ہوگا۔

انہوں نے کہا، “اب جانے کا وقت آ گیا ہے اور دراندازوں کو اپنا سامان باندھنا شروع کر دینا چاہیے۔ جو لوگ دراندازوں کی مدد کر رہے ہیں، انہیں بھی نہیں بخشا جائے گا۔” وزیر اعظم نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے 15 سالہ دورِ حکومت نے بنگال میں خوف کا ماحول پیدا کیا ہے۔

انہوں نے کہا، “ترنمول کے 15 سالہ اقتدار نے بنگال کے ہر شہری اور ہر خاندان کو خوف کے سوا کچھ نہیں دیا۔ یہ انتخاب ترنمول کے خوف کو ختم کرنے کے لیے ہے۔” مودی نے “ترنمول کے خوف سے آزاد اور بی جے پی کے اعتماد سے بھرپور مغربی بنگال” کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ایسا بدلاؤ ایک ترقی یافتہ مغربی بنگال کی تعمیر کی سمت پہلا قدم ہوگا۔

وزیر اعظم نے کہا، “بی جے پی ترنمول کانگریس کی ‘بے رحم حکومت’ کے بدعنوانی پر وائٹ پیپر جاری کرے گی۔ ترنمول کی پالیسیوں نے مغربی بنگال میں آلو کے کسانوں کا مستقبل تباہ کر دیا ہے۔” انہوں نے کہا، “ہم مغربی بنگال میں سیاسی تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کریں گے۔”

خواتین ووٹروں سے بی جے پی کے حق میں متحد ہونے کی اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہا، “جہاں جہاں خواتین نے بڑی تعداد میں ووٹنگ کی ہے، وہاں بی جے پی نے زبردست کامیابی حاصل کی ہے۔” فلاحی اسکیموں کے حوالے سے وزیر اعظم نے کہا، “اگر مغربی بنگال میں بی جے پی کی حکومت بنتی ہے تو پہلی کابینہ میٹنگ میں آیوشمان بھارت صحت اسکیم نافذ کی جائے گی۔ بی جے پی ترنمول حکومت کی اسکیموں کو بند نہیں کرے گی، لیکن اس کے بدعنوانی اور لوٹ مار کا خاتمہ کرے گی۔” مغربی بنگال کی 294 رکنی اسمبلی کے انتخابات دو مرحلوں میں 23 اپریل اور 29 اپریل کو ہوں گے، جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔