ہندوستان کو اپنے پرانے دوست ایران کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے: مولانا یعسوب عباس

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 12-09-2026
ہندوستان کو اپنے پرانے دوست ایران کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے: مولانا یعسوب عباس
ہندوستان کو اپنے پرانے دوست ایران کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے: مولانا یعسوب عباس

 



نئی دہلی: آل انڈیا شیعہ پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا یعسوب عباس نے نئی دہلی اور تہران کے درمیان دیرینہ سفارتی تعلقات کی مضبوطی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان کی برکس سربراہ اجلاس میں شرکت دونوں ممالک کے مضبوط تعلقات کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں شدید کشیدگی کے باوجود ایرانی صدر کا ہندوستان آنا دونوں ممالک کے دیرینہ تعلقات کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔مولانا یعسوب عباس نے کہا کہ ایسے وقت میں جب ایران کو شدید جغرافیائی سیاسی دباؤ کا سامنا ہے ایرانی صدر کا ہندوستان کا دورہ دونوں ممالک کے تعلقات کی مضبوطی اور پائیداری کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی حکومت کو اپنے پرانے دوست ایران کے ساتھ کھل کر کھڑا ہونا چاہیے۔

انہوں نے اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت دو ممالک ایران کے خلاف ہیں اور مشرق وسطیٰ کا ایک نام نہاد اسلامی ملک بھی ایران کے خلاف ہے۔ ایسے حالات میں ایران کے صدر کی ہندوستان میں موجودگی کسی معجزے سے کم نہیں ہے۔مولانا عباس نے ہندوستان اور ایران کے درمیان سفارتی کشیدگی کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے حالیہ اعلیٰ سطحی رابطوں کا حوالہ دیا۔ انہوں نے ایران کے چیف جسٹس آیت اللہ غلام حسین محسنی اژئی کے رواں ماہ کے اوائل میں برکس چیف جسٹس فورم میں شرکت کے لیے ہندوستان آنے کو دونوں ممالک کے مضبوط تعلقات کی ایک اور مثال قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور ایران کے درمیان کوئی تلخی نہیں ہے۔ ایران کے چیف جسٹس حال ہی میں ہندوستان آئے اور آج 11 ستمبر کو ایران کے صدر بھی ہندوستان پہنچے ہیں۔ پھر دونوں ممالک کے درمیان تلخی کیسے ہوسکتی ہے۔ ان کے مطابق امریکہ اور اسرائیل ہندوستان اور ایران کے درمیان تلخی پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم وزیر اعظم اس معاملے میں مناسب جواب دیں گے اور اپنے پرانے دوست کے ساتھ عزت و وقار کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

شیعہ رہنما نے اپنے بیان میں خطے میں حالیہ فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں پر بھی تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے ایران میں جاں بحق ہونے والوں اور معصوم بچوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا۔مولانا عباس نے دونوں ممالک کے درمیان مشاورت کے موجودہ ذرائع کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اور ایران کے تعلقات کو مزید بہتر بنانے کے طریقوں پر بھی بات ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں ہندوستانی حکومت کو اپنے پرانے دوست ایران کے ساتھ کھل کر کھڑا ہونا چاہیے۔

دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور تزویراتی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے مولانا عباس نے سمندری تجارت اور توانائی کی اہم گزرگاہ آبنائے ہرمز کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور ایران کے تعلقات صدیوں پر محیط ہیں اور دنیا کی مختلف طاقتیں دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرنے کی کوشش کرتی رہی ہیں لیکن ان کی دوستی کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو تیل اور گیس ملتی رہے گی۔ ایران نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے جو مؤقف اختیار کیا ہے وہ پوری دنیا کے لیے ہے ہندوستان کے لیے نہیں۔ ان کے مطابق ایران ہندوستانی بحری جہازوں کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔

مولانا یعسوب عباس نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ ایران کی اعلیٰ سطحی قیادت کی ہندوستان آمد دونوں ممالک کے دیرینہ تعلقات اور مختلف برادریوں کے درمیان مضبوط روابط کے لیے باعث فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے تمام بحری جہاز یہاں سے گزر رہے ہیں اور صرف بحری جہاز ہی نہیں بلکہ ایران کے صدر کا خود ہندوستان آنا بھی ہر ہندوستانی اور ہر برادری کے لیے باعث فخر ہے۔