ہندوستان اگلے دو دہائیوں تک دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت رہے گا: پیوش گوئل
ممبئی
مرکزی وزیرِ تجارت و صنعت پیوش گوئل نے جمعرات کو کہا کہ ہندوستان آئندہ دو دہائیوں تک دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت رہے گا۔ انہوں نے ملک کی یہ صلاحیت اجاگر کی کہ وہ بحرانوں کو مواقع میں بدل کر طویل مدتی عالمی سرمایہ کاری کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ سٹی انڈیا کانفرنس 2026 سے خطاب کرتے ہوئے گوئل نے کہا کہ عالمی غیر یقینی صورتحال کے باوجود ہندوستان مسلسل مضبوطی سے ابھرا ہے اور تجارت، مینوفیکچرنگ، کاروبار اور سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش مقام بنا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا، "ہندوستان مستقبل میں دو دہائیوں سے بھی زیادہ عرصے تک دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے بدلتے ہوئے عالمی حالات کے مطابق اپنی پالیسیوں اور کاروباری حکمتِ عملیوں میں بار بار تبدیلی کی ہے اور چیلنجز کو ترقی کے مواقع میں تبدیل کیا ہے۔ وزیر کے مطابق حالیہ عالمی سرمایہ کاروں کے ساتھ گفتگو سے ملک کی طویل مدتی ترقی کی صلاحیت پر اعتماد مزید مضبوط ہوا ہے۔
انہوں نے کہا، "میری ہر گفتگو سے ایک بات واضح ہوئی ہے کہ دنیا کا طویل مدتی سرمایہ ہندوستان اور یہاں موجود مواقع کی طرف دیکھ رہا ہے۔" گوئل نے مزید کہا کہ اب سرمایہ کاروں کے لیے سوال یہ نہیں رہا کہ ہندوستان میں سرمایہ کاری کرنی ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ ملک کی ترقی کی کہانی کو کتنی جلدی سمجھتے ہیں۔
ملک کی ترقی کی مثال دیتے ہوئے وزیر نے جنوبی کوریا کی آٹوموبائل کمپنی ہنڈائی کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ کمپنی 1999 میں ہندوستان آئی جب یہاں انفراسٹرکچر ابتدائی مرحلے میں تھا، اور اس نے 200 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی۔
گوئل کے مطابق ہنڈائی نے چند سالوں میں ہی گاڑیوں کی پیداوار شروع کر دی اور مسلسل اپنے کاروبار کو وسعت دیتی رہی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 10 برسوں میں ہی ہنڈائی نے اپنی باقی ماندہ ویلیو کے ذریعے 12 سے 13 ارب ڈالر سے زائد کی دولت پیدا کی، جبکہ اتنی ہی رقم اسے رائلٹی، ڈیویڈنڈ اور کیپیٹل کی صورت میں بھی ملی۔
وزیر نے برطانوی تعمیراتی آلات بنانے والی کمپنی جے سی بی کا بھی ذکر کیا، جو اس وقت ہندوستان آئی جب انفراسٹرکچر ترقی کے ابتدائی مرحلے میں تھا۔ انہوں نے بتایا کہ جے سی بی اب اپنے زیادہ تر مصنوعات ہندوستان میں ہی تیار کرتی ہے اور انہیں تقریباً 130 ممالک میں برآمد کرتی ہے، ساتھ ہی ملک کی بڑھتی ہوئی گھریلو ضروریات بھی پوری کر رہی ہے۔
گوئل نے کہا، "ہنڈائی اور جے سی بی نے شور شرابے کے بجائے عملی کام پر توجہ دی،" اور ان کی کامیابی کو ہندوستان کی مینوفیکچرنگ صلاحیت اور طویل مدتی ترقی کی علامت قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ آج ہندوستان نہ صرف 1.4 ارب لوگوں کی گھریلو ضروریات پوری کر رہا ہے بلکہ تیزی سے عالمی منڈیوں کے لیے ایک مینوفیکچرنگ حب بھی بنتا جا رہا ہے۔
وزیر نے ملک کے حالیہ تجارتی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ساڑھے تین برسوں میں ہندوستان نے 9 آزاد تجارتی معاہدے کیے ہیں جن میں 38 ترقی یافتہ معیشتیں شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ ممالک ہندوستان کی ترقی کی کہانی کو مکمل کرتے ہیں کیونکہ یہ ایسی مصنوعات اور خدمات فراہم کرتے ہیں جن کی ملک کو ضرورت ہے، جبکہ ساتھ ہی ہندوستانی برآمدات، ٹیلنٹ اور سرمایہ کاری کے لیے بھی مواقع پیدا کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صبر کرنے والے سرمایہ کاروں کو ہندوستان میں زبردست فائدہ ہوا ہے اور ان کے اعتماد کو اچھا صلہ ملا ہے۔