نئی دہلی: مرکزی وزیرِ تجارت و صنعت پیوش گوئل نے کہا ہے کہ ہندوستان دنیا بھر کے ادویات کے ضابطہ کار اداروں (ڈرگ ریگولیٹرز) کے درمیان قریبی تعاون کا خواہاں ہے۔ ان کے مطابق، تجارتی معاہدوں کے بڑھتے ہوئے نیٹ ورک کی مدد سے معیاری اور سستی ادویات تک عالمی سطح پر رسائی آسان ہوگی، جبکہ ہندوستان کو دواسازی میں جدت کا عالمی مرکز بنانے میں بھی مدد ملے گی۔
پیوش گوئل نے جمعہ کو ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ دو روزہ گلوبل ڈرگ ریگولیٹری کانکلیو 2026، جو جمعرات کو بھارت منڈپم میں شروع ہوا، میں دنیا بھر کے قومی ادویات کے ضابطہ کار اداروں کے سربراہان اور سینئر حکام شریک ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا، "ہندوستان دنیا کے ادویات کے ضابطہ کار اداروں کے درمیان مزید قریبی تعاون چاہتا ہے، جسے ہمارے بڑھتے ہوئے تجارتی معاہدوں کا نیٹ ورک تقویت دے گا۔
اس سے دنیا بھر کے مریضوں کو معیاری اور سستی ادویات جلد دستیاب ہوں گی اور ساتھ ہی ہندوستان دواسازی میں جدت کا عالمی مرکز بننے کی سمت مزید مضبوط ہوگا۔" وزیرِ تجارت نے اس کانکلیو کو دواسازی کے شعبے میں ضابطہ جاتی تعاون اور ہم آہنگی کے لیے ہندوستان کا اہم بین الاقوامی فورم قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس سے ہندوستانی دوا ساز صنعت، عالمی ضابطہ کار اداروں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے درمیان تعاون مزید مضبوط ہوگا۔
Delighted that the two-day Global Drug Regulatory Conclave 2026 commenced in Bharat Mandapam yesterday.
— Piyush Goyal (@PiyushGoyal) July 31, 2026
As India's flagship international forum on pharmaceutical regulatory cooperation & convergence, the conclave brings together the heads and senior officials of national drug… pic.twitter.com/3lv7DQ9MuE
انہوں نے کہا، "مجھے یقین ہے کہ یہ کانکلیو ہندوستانی دواسازی کی صنعت، عالمی ریگولیٹرز اور دیگر شراکت داروں کے درمیان گہرے تعاون کو فروغ دے گا، جس سے عالمی صحت کا نظام مزید مضبوط، اختراعی اور مریض دوست بن سکے گا۔"
وزارتِ صحت کے مطابق، افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیرِ صحت جگت پرکاش نڈا نے کہا کہ عوامی صحت کے تحفظ، اختراع کے فروغ اور محفوظ، مؤثر، معیاری اور سستی ادویات کی بروقت دستیابی کے لیے قابلِ اعتماد، سائنسی بنیادوں پر قائم اور شفاف ضابطہ جاتی نظام ناگزیر ہے۔
انہوں نے اصلاحات، ڈیجیٹل تبدیلی اور معیاری نظام کو مزید مضبوط بنا کر مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ریگولیٹری ڈھانچہ تشکیل دینے کے لیے ہندوستان کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔ مرکزی سیکریٹری صحت پنیہ سلیلا سریواستو نے کہا کہ ضابطہ جاتی نظام کو بین الاقوامی تعاون، شفافیت، سائنسی مہارت اور باہمی اعتماد کے ذریعے مزید مؤثر بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اصلاحات، ڈیجیٹل تبدیلی، صلاحیت سازی اور عالمی معیارات کے مطابق ضابطہ جاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہے اور معیاری ادویات و طبی مصنوعات کی بروقت فراہمی یقینی بنانے کے لیے عالمی تعاون میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔