ہندوستان کی چینی کی پیداوار میں 7 فیصد اضافہ

Story by  اے این آئی | Posted by  Aamnah Farooque | Date 30-04-2026
ہندوستان کی چینی کی پیداوار میں 7 فیصد اضافہ
ہندوستان کی چینی کی پیداوار میں 7 فیصد اضافہ

 



نئی دہلی
ہندوستان میں چینی کی پیداوار 2025-26 سیزن میں 30 اپریل تک 275.28 لاکھ ٹن تک پہنچ گئی ہے، جو گزشتہ سال اسی مدت میں ریکارڈ کی گئی 256.49 لاکھ ٹن پیداوار کے مقابلے میں تقریباً 7 فیصد زیادہ ہے۔ یہ اعداد و شمار انڈین شوگر اینڈ بایو انرجی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن  کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں۔
کرشنگ سیزن کے اختتام کے قریب، پورے ملک میں اب صرف پانچ شوگر ملیں کام کر رہی ہیں، جبکہ گزشتہ سال اسی وقت 19 ملیں فعال تھیں۔ریاستوں کے لحاظ سے صورتحال ملی جلی رہی۔ اتر پردیش میں 89.65 لاکھ ٹن چینی پیدا ہوئی، جو گزشتہ سال کے 92.40 لاکھ ٹن کے مقابلے میں کم ہے، اور اس سیزن میں ریاست کی تمام ملیں بند ہو چکی ہیں، جبکہ پچھلے سال اسی وقت 10 ملیں کام کر رہی تھیں۔ اس کے برعکس مہاراشٹر اور کرناٹک میں پیداوار میں اضافہ ہوا ہے، جہاں بالترتیب 99.2 لاکھ ٹن اور 48.01 لاکھ ٹن چینی تیار کی گئی، جبکہ گزشتہ سیزن میں یہ اعداد 80.93 لاکھ ٹن اور 40.40 لاکھ ٹن تھے۔ ان دونوں ریاستوں میں بھی مرکزی سیزن کی ملیں اپنا کام مکمل کر چکی ہیں۔
تاہم، کرناٹک اور تمل ناڈو کی کچھ ملیں جون-جولائی 2026 میں شروع ہونے والے خصوصی سیزن کے دوران چلنے کی توقع ہے، جو عام طور پر تقریباً 5 لاکھ ٹن چینی کی پیداوار میں حصہ ڈالتا ہے۔
سیزن کے اختتام کے ساتھ ہی  آئی ایس ایم اے نے چینی کی کم از کم فروخت قیمت  میں جلد نظرثانی کی ضرورت پر زور دیا ہے، جس کی وجہ بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت اور ملوں کو ملنے والی کم قیمت  ہے۔ ان عوامل نے ملوں کے مالی بہاؤ پر دباؤ ڈالا ہے اور گنے کی ادائیگیوں میں بقایا جات میں اضافہ کیا ہے۔ مہاراشٹر میں گنے کی بقایا رقم اپریل کے وسط تک 2,130 کروڑ روپے تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال اسی مدت میں 752 کروڑ روپے تھی۔
آئی ایس ایم اے نے کہا کہ موجودہ لاگت کے ڈھانچے کے مطابق  ایم ایس پی میں بروقت اضافہ نہایت ضروری ہے، تاکہ مالی استحکام بحال ہو، کسانوں کو گنے کی بروقت ادائیگی ممکن ہو، اور مارکیٹ میں استحکام برقرار رکھا جا سکے، وہ بھی حکومت پر کسی اضافی مالی بوجھ کے بغیر۔
صنعتی تنظیم نے خام تیل کی بڑھتی قیمتوں اور بدلتی جغرافیائی سیاسی صورتحال کے پیش نظر ایتھنول ملاوٹ کے عمل کو تیز کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔آئی ایس ایم اے کے مطابق، "تقریباً 2,000 کروڑ لیٹر (بشمول اناج پر مبنی ایتھنول) کی پیداواری صلاحیت کو دیکھتے ہوئے، E20 سے آگے بڑھ کر ای 22،  ای25، ای 27 اور ای85/ای 100 جیسے اعلیٰ ملاوٹ کے اہداف کے لیے ایک طویل مدتی حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ فلیکس فیول گاڑیوں کے تیزی سے نفاذ اور جی ایس ٹی میں مناسب تبدیلیاں بھی ضروری ہیں، تاکہ اس کے استعمال اور مانگ کو فروغ دیا جا سکے۔
مزید کہا گیا کہ ایتھنول کی خریداری کی قیمتوں میں تاخیر سے نظرثانی اور کم الاٹمنٹ کے باعث ڈسٹلیشن صلاحیت کا مکمل استعمال نہیں ہو پا رہا، جس سے آمدنی متاثر ہو رہی ہے۔ آئی ایس ایم اے نے اس بات پر زور دیا کہ بروقت پالیسی اقدامات نہایت ضروری ہیں تاکہ اس شعبے کو مستحکم کیا جا سکے، کسانوں کی مدد کی جا سکے اور توانائی کی سلامتی کو مضبوط بنایا جا سکے۔