نئی دہلی:ہندستان کی جی ڈی پی شرح نمو کا اندازہ مالی سال 2026-27 کے لیے 7 سے 7.4 فیصد رکھا گیا ہے لیکن مغربی ایشیا کے جاری تنازع کے سبب بدلتے ہوئے معاشی حالات کی وجہ سے اس پر غیر یقینی کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ یہ بات وزارت خزانہ کی ماہانہ اقتصادی جائزہ رپورٹ میں کہی گئی ہے۔
وزارت نے کہا کہ ہندستان مالی سال 2026-27 میں ایسے وقت داخل ہو رہا ہے جب مضبوط داخلی معاشی بنیادوں کو بیرونی چیلنجوں کا سامنا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال میں معیشت نے 7.6 فیصد کی شرح سے ترقی کی جو حالیہ برسوں میں سب سے مضبوط کارکردگی میں شمار ہوتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ گزشتہ مالی سال میں حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو 7.6 فیصد رہی جو حالیہ برسوں کی بہترین کارکردگی ہے اور اسی بنیاد پر آنے والے مالی سال کے لیے 7 سے 7.4 فیصد کا اندازہ لگایا گیا تھا لیکن مغربی ایشیا کی جنگ کے بعد بدلتی معاشی صورتحال نے اس اندازے کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔
تاہم رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مغربی ایشیا کی جنگ نے معیشت میں سپلائی شاک پیدا کر دیا ہے جس سے مہنگائی تجارت اور مالی بہاؤ کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی بڑھتی قیمتوں مہنگائی اور معاشی سرگرمیوں میں سستی کے باعث طلب میں کمی ایک بڑا خطرہ بن کر ابھر رہی ہے۔
وزارت نے کہا کہ مہنگائی لاگت پر مبنی مہنگائی میں تبدیل ہو سکتی ہے کیونکہ کمپنیاں اور پیداوار کرنے والے ادارے اپنے منافع کو برقرار رکھنے کے لیے بڑھتی لاگت صارفین پر منتقل کریں گے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ کئی ذیلی صنعتیں پیٹرولیم شعبے پر زیادہ انحصار کرتی ہیں اور توانائی کی بڑھتی قیمتیں پورے معاشی نظام میں پیداواری لاگت کو بڑھا سکتی ہیں۔
اس کے ساتھ رپورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ ہندستان کے پاس مضبوط داخلی طلب پالیسی تعاون مستحکم مالیاتی نظام اور مسلسل سرکاری سرمایہ کاری کی وجہ سے کچھ حد تک لچک موجود ہے لیکن اگر توانائی اور کھاد کی فراہمی سے متعلق غیر یقینی صورتحال طویل عرصے تک جاری رہی تو یہ تحفظی عوامل بھی دباؤ میں آ سکتے ہیں۔
وزارت نے موسمی خطرات کی بھی نشاندہی کی اور کہا کہ ایل نینو سدرن اوسلیشن کی وجہ سے جنوب مغربی مانسون معمول سے کم رہ سکتا ہے۔ زیادہ تر علاقوں میں بارش کم ہونے کا امکان ہے جس سے مہنگائی میں مزید اضافہ اور زرعی پیداوار پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔
اس کے نتیجے میں مہنگائی کے بڑھنے مالیاتی اور بیرونی خسارے کے پھیلنے اور معاشی ترقی کی رفتار سست ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
دوسری جانب بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے اپنے تازہ اندازے میں ہندستان کی حقیقی جی ڈی پی شرح نمو مالی سال 2026-27 کے لیے 6.5 فیصد بتائی ہے جو جنوری 2026 کے اندازے سے 0.1 فیصد زیادہ ہے۔ آئی ایم ایف نے اس کی وجہ گزشتہ مالی سال کی مضبوط رفتار امریکی ٹیرف میں کمی جو 50 فیصد سے گھٹ کر 10 فیصد ہو گئی ہے اور مضبوط داخلی طلب کو قرار دیا ہے۔