نئی دہلی : پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں توانائی کی سپلائی مکمل طور پر محفوظ ہے اور کسی بھی قسم کی قلت نہیں ہے۔ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی غلط معلوماتی مہم سے خبردار کیا گیا ہے۔
وزارت کے مطابق ملک بھر میں پیٹرول ڈیزل اور ایل پی جی کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے اور تمام ایک لاکھ سے زائد فیول اسٹیشن کھلے ہیں۔ کہیں بھی راشننگ نافذ نہیں کی گئی۔
بیان میں کہا گیا کہ ہندوستان عالمی سطح پر توانائی کا نیٹ ایکسپورٹر ہے اس لیے ملک کے اندر پیٹرول اور ڈیزل کی دستیابی یقینی ہے۔ چند مقامات پر گھبراہٹ میں خریداری کے واقعات پیش آئے مگر یہ سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی غلط معلومات کا نتیجہ تھے نہ کہ کسی حقیقی قلت کا۔
وزارت نے مزید کہا کہ تیل کمپنیوں نے سپلائی بڑھانے کے لیے رات بھر کام کیا اور پیٹرول پمپ مالکان کے لیے کریڈٹ کی مدت ایک دن سے بڑھا کر تین دن کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی رکاوٹ سے بچا جا سکے۔
آبنائے ہرمز کی صورتحال کے باوجود ہندوستان کو دنیا کے 41 سے زائد سپلائرز سے خام تیل مسلسل مل رہا ہے اور تمام ریفائنریز 100 فیصد سے زیادہ صلاحیت پر کام کر رہی ہیں۔ آئندہ 60 دن کے لیے خام تیل کی سپلائی پہلے ہی یقینی بنا لی گئی ہے۔
ایل پی جی کے حوالے سے وزارت نے کہا کہ کسی قسم کی کمی نہیں ہے۔ گھریلو پیداوار میں 40 فیصد اضافہ کیا گیا ہے اور روزانہ پیداوار 50 TMT تک پہنچ گئی ہے جبکہ درآمدات کی ضرورت کم ہو کر 30 TMT رہ گئی ہے۔ امریکہ روس اور آسٹریلیا سمیت مختلف ممالک سے 800 TMT ایل پی جی کی کھیپ راستے میں ہے۔
روزانہ 50 لاکھ سے زائد گیس سلنڈر فراہم کیے جا رہے ہیں۔ گھبراہٹ کے باعث مانگ عارضی طور پر 89 لاکھ تک پہنچ گئی تھی جو اب دوبارہ معمول پر آ گئی ہے۔ بلیک مارکیٹنگ روکنے کے لیے کمرشل سلنڈرز کی فراہمی میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔
وزارت نے واضح کیا کہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی ویڈیوز اور پوسٹس میں دیگر ممالک کی تصاویر اور خبریں استعمال کر کے ہندوستان میں قلت کا غلط تاثر پیدا کیا جا رہا ہے اور بعض سرکاری احکامات کو بھی غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
آخر میں حکومت نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ صرف سرکاری ذرائع پر اعتماد کریں اور خبردار کیا کہ ضروری اشیاء کے بارے میں جھوٹی معلومات پھیلانا قانوناً جرم ہے اور اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔