نئی دہلی:قومی شماریاتی دفتر کی جانب سے بدھ کو جاری کی گئی پہلی پیشگی تخمینوں کے مطابق مالی سال 2025-26 میں حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو 7.4 فیصد رہنے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ جبکہ مالی سال 2024-25 میں یہ شرح 6.5 فیصد تھی۔اسی بیان میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 2025-26 میں اسمی جی ڈی پی کے 8 فیصد کی شرح سے بڑھنے کا تخمینہ ہے۔
حقیقی جی ڈی پی کے مالی سال 2026 میں 201.90 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچنے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ جبکہ مالی سال 2025 کے لیے عارضی تخمینہ 187.97 لاکھ کروڑ روپے تھا۔اسمی جی ڈی پی کے مالی سال 2025-26 میں 357.14 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچنے کی توقع ہے۔ جو مالی سال 2024-25 میں 330.68 لاکھ کروڑ روپے تھا۔
اسی طرح حقیقی مجموعی ویلیو ایڈیڈ کے مالی سال 2025-26 میں 184.50 لاکھ کروڑ روپے رہنے کا اندازہ ہے۔ جو مالی سال 2024-25 میں 171.87 لاکھ کروڑ روپے تھا۔ اس طرح شرح نمو 7.3 فیصد رہی۔
اسمی مجموعی ویلیو ایڈیڈ کے مالی سال 2025-26 میں 323.48 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔ جو مالی سال 2024-25 میں 300.22 لاکھ کروڑ روپے تھا۔ اس میں 7.7 فیصد کی شرح نمو دیکھی گئی۔
اسمی جی ڈی پی موجودہ قیمتوں پر مبنی ہوتا ہے جس میں افراط زر شامل ہوتا ہے۔ جبکہ حقیقی جی ڈی پی افراط زر کو بنیاد سال کی قیمتوں کے مطابق ایڈجسٹ کر کے حقیقی پیداوار کی عکاسی کرتا ہے۔
قومی شماریاتی دفتر کے مطابق شرح نمو کی رفتار میں بنیادی کردار خدمات کے شعبے کا ہے۔ جہاں حقیقی مجموعی ویلیو ایڈیڈ کے 7.3 فیصد بڑھنے کا امکان ہے۔ مالیاتی رئیل اسٹیٹ اور پیشہ ورانہ خدمات کے ساتھ ساتھ عوامی انتظامیہ دفاع اور دیگر خدمات میں مستقل قیمتوں پر 9.9 فیصد اضافے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
مینوفیکچرنگ اور تعمیرات کے شعبے سے بھی مجموعی ترقی کو سہارا ملنے کی امید ہے۔ ثانوی شعبے کے 7.0 فیصد بڑھنے کا امکان ہے۔ جبکہ تجارت ہوٹل ٹرانسپورٹ مواصلات اور نشریاتی خدمات میں 7.5 فیصد اضافے کا اندازہ ہے۔ اس کے برعکس زراعت اور متعلقہ شعبوں میں نسبتاً کم 3.1 فیصد ترقی متوقع ہے۔
طلب کے پہلو سے دیکھا جائے تو نجی حتمی کھپت اخراجات کے 7.0 فیصد بڑھنے کا اندازہ ہے۔ جو گھریلو اخراجات میں استحکام کی علامت ہے۔ مجموعی مستقل سرمایہ تشکیل جو سرمایہ کاری کی سرگرمیوں کا اہم اشاریہ ہے اس کے 7.8 فیصد بڑھنے کی توقع ہے۔ جو پچھلے مالی سال میں 7.1 فیصد تھی۔