نئی دہلی: انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) نے موسمی انفلوئنزا ویکسین سے متعلق اپنی سفارشات کے بارے میں بعض میڈیا رپورٹس کا نوٹس لیا ہے، جن میں گمراہ کن معلومات شائع کی گئی ہیں۔ آئی سی ایم آر نے کہا کہ یہ رپورٹس تقریباً دو ماہ قبل طبی ماہرین کے لیے انفلوئنزا سے متعلق جاری کیے گئے ایک نوٹ کی بنیاد پر سامنے آئی ہیں۔
اس نوٹ کا مقصد ڈاکٹروں اور طبی عملے کو علاج سے متعلق رہنمائی فراہم کرنا تھا اور اسے آئی سی ایم آر کی جانب سے جاری کی گئی کوئی نئی یا حالیہ ایڈوائزری نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ آئی سی ایم آر نے بتایا کہ شمالی نصف کرہ کی ویکسین کو ترجیح دی گئی ہے۔
تاہم، اگر یہ دستیاب نہ ہو تو جنوبی نصف کرہ کی ویکسین بھی لی جا سکتی ہے، کیونکہ موجودہ گردش کرنے والے H1N1 وائرس کے خلاف دونوں ویکسین مؤثر ہیں۔ فلو ویکسین دستیاب نہ ہونے سے متعلق دعوے پر آئی سی ایم آر نے وضاحت کی کہ ہندوستان میں مناسب موسمی انفلوئنزا ویکسین، جن میں شمالی نصف کرہ کی ویکسین بھی شامل ہے، بڑی فارمیسیوں کے ذریعے دستیاب ہیں۔ لوگ اپنی مرضی سے یہ ویکسین لے سکتے ہیں، خاص طور پر وہ افراد جو زیادہ خطرے والے گروپ میں شامل ہیں۔
موسمی انفلوئنزا ویکسین خاص طور پر ان افراد کے لیے تجویز کی جاتی ہے جنہیں شدید بیماری کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔ ان میں بزرگ افراد، حاملہ خواتین، پہلے سے کسی بیماری میں مبتلا افراد اور کمزور مدافعتی نظام والے افراد شامل ہیں۔ آئی سی ایم آر نے میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس کی سائنسی رہنمائی کو درست انداز میں اور مناسب پس منظر کے ساتھ پیش کریں۔ کونسل نے کہا کہ موسمی انفلوئنزا ویکسین سے متعلق اس کی سفارشات عالمی ادارۂ صحت (WHO) کی متعلقہ رہنمائی اور موجودہ سائنسی شواہد کی بنیاد پر ہیں۔