نئی دہلی: انڈمان و نکوبار جزائر کے لیفٹیننٹ گورنر ایڈمرل (ریٹائرڈ) ڈی کے جوشی نے گریٹ نکوبار جزیرے کی پائیدار ترقی کا جائزہ لینے کے لیے مرکزی وزارتِ ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی اعلیٰ سطحی کمیٹی کے چیئرمین چندر پرکاش گوئل سے ملاقات کی۔ ایک سرکاری عہدیدار نے ہفتے کے روز یہ جانکاری دی۔ عہدیدار کے مطابق چندر پرکاش گوئل اور کمیٹی کے مستقل رکن ڈاکٹر ستیہ پرکاش یادو نے جمعہ کو لیفٹیننٹ گورنر سے ملاقات کی۔
اس دوران ماحولیاتی اثرات کے جائزے (ای آئی اے)، ساحلی ضابطہ بندی زون (سی آر زیڈ) کے تحت تحفظ اور ضابطہ جاتی فریم ورک، جنگلاتی اراضی کے متبادل استعمال، تلافی کے طور پر شجرکاری اور گریٹ نکوبار کے قبائلی باشندوں کی بے دخلی سے بچاؤ جیسے اہم امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ بڑی اسٹریٹجک اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیراتی منصوبوں کے دوران ماحولیات کو پہنچنے والے نقصان کو کم سے کم کیا جائے اور جنگلی حیات، سماجی و ثقافتی نظام اور قدرتی ماحولیاتی توازن کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ گریٹ نکوبار جزیرہ منصوبہ، جسے حال ہی میں نیشنل گرین ٹریبونل سے حتمی ماحولیاتی منظوری ملی ہے، انڈمان و نکوبار کو ہند-بحرالکاہل خطے میں ایک اہم سمندری، لاجسٹک اور ٹرانسپورٹ مرکز کے طور پر قائم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
منصوبے کے پہلے مرحلے میں تقریباً 60 لاکھ ٹوئنٹی فٹ ایکویولنٹ یونٹ (ٹی ای یو) صلاحیت کا کنٹینر ٹرمینل قائم کیا جائے گا، جس پر تقریباً 20 ہزار کروڑ روپے لاگت آئے گی۔ منصوبہ شروع ہونے کے تین برس کے اندر مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ ٹی ای یو جہاز رانی اور بندرگاہی صنعت میں کنٹینروں کی گنجائش ناپنے کی معیاری اکائی ہے۔ اجلاس میں موجود ایک اور عہدیدار نے بتایا کہ آخری مرحلے میں اس بندرگاہ کی صلاحیت بڑھ کر 2.1 کروڑ ٹی ای یو تک پہنچ سکتی ہے، جس کے بعد یہ نہ صرف بھارت بلکہ ممکنہ طور پر پورے ہند-بحرالکاہل خطے کی سب سے بڑی کنٹینر بندرگاہوں میں شامل ہو جائے گی۔