اگر میں دھرمیندر پردھان کی جگہ ہوتا تو وزارتی عہدہ سے استعفیٰ دے دیتا: سبل

Story by  اے این آئی | Posted by  Aamnah Farooque | Date 23-05-2026
اگر میں دھرمیندر پردھان کی جگہ ہوتا تو وزارتی عہدہ سے استعفیٰ دے دیتا: سبل
اگر میں دھرمیندر پردھان کی جگہ ہوتا تو وزارتی عہدہ سے استعفیٰ دے دیتا: سبل

 



نئی دہلی
راجیہ سبھا کے رکن کپل سبل نے ہفتہ کے روز مرکزی حکومت پر بچوں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اگر متحدہ ترقی پسند اتحاد (یو پی اے) کی حکومت ہوتی اور وہ خود یا کوئی بھی وزیر دھرمیندر پردھان جیسی صورتحال میں گھرا ہوتا تو استعفیٰ دے دیتا، لیکن نریندر مودی حکومت میں کسی کی جوابدہی طے کرنا یا استعفے کا مطالبہ کرنا بے معنی ہو چکا ہے۔
یو پی اے حکومت میں انسانی وسائل کی ترقی کے سابق وزیر کپل سبل نے کہا کہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان بچوں کی زندگیوں کے ساتھ تجربات کر رہے ہیں، جبکہ کوئی بھی سنجیدہ اور ذمہ دار وزیر ایسا نہیں کر سکتا۔انہوں نے کہا کہ نیٹ  معاملے اور پھر سی بی ایس ای کی بارہویں جماعت کے امتحانات میں آن اسکرین مارکنگ  کے ذریعے جانچ کے مسئلے پر کسی نہ کسی کی ذمہ داری طے ہونی چاہیے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کپل سبل نے کہا کہ اس مرتبہ سی بی ایس ای کی بارہویں جماعت کے امتحان میں تقریباً 17.8 لاکھ طلبہ شریک ہوئے تھے اور حکومت نے اعلان کیا تھا کہ اس بار جانچ  او ایس ایم کے ذریعے ہوگی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کامیاب ہونے والے طلبہ کا تناسب کم ہو گیا کیونکہ اساتذہ کو اسکین شدہ جوابی کاپیوں کی جانچ میں مشکلات پیش آئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال کامیاب طلبہ کا تناسب 88.39 فیصد تھا، جبکہ اس سال یہ کم ہو کر 85.9 فیصد رہ گیا ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر حکومت بچوں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کیوں کر رہی ہے؟
کپل سبل نے کہا کہ اگر ایسی صورتحال یو پی اے حکومت میں پیدا ہوتی اور کوئی بھی وزیر، حتیٰ کہ میں خود بھی اس عہدے پر ہوتا، تو استعفیٰ دے دیتا۔ لیکن یہاں تو استعفے کا مطالبہ کرنے کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہے۔
بارہویں جماعت کے بورڈ امتحانات میں آن اسکرین مارکنگ جانچ کا ایک ڈیجیٹل نظام ہے، جس میں طلبہ کی جوابی کاپیوں کو اسکین کرکے کمپیوٹر اسکرین پر ڈیجیٹل شکل میں جانچا جاتا ہے۔
کپل سبل نے یہ بھی کہا کہ سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ آرڈیننس کے ذریعے کرنے کے بجائے پارلیمنٹ میں بحث کے بعد کیا جانا چاہیے تھا۔