آئی پی اے سی چھاپہ کیس: سپریم کورٹ نے مغربی بنگال حکومت کو نوٹس جاری کیا

Story by  اے این آئی | Posted by  Aamnah Farooque | Date 15-01-2026
آئی پی اے سی چھاپہ کیس: سپریم کورٹ نے مغربی بنگال حکومت کو نوٹس جاری کیا
آئی پی اے سی چھاپہ کیس: سپریم کورٹ نے مغربی بنگال حکومت کو نوٹس جاری کیا

 



نئی دہلی/ آواز دی وائس
سپریم کورٹ نے جمعرات کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے اس الزام کو ’’انتہائی سنگین‘‘ قرار دیا کہ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اس کی تفتیش میں ’’رخنہ ڈالا‘‘۔
عدالت نے اس بات کا جائزہ لینے پر رضامندی ظاہر کی کہ آیا کسی ریاست کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں کسی سنگین جرم کے معاملے میں مرکزی ایجنسی کی جانچ میں مداخلت کر سکتی ہیں یا نہیں۔
سپریم کورٹ نے مغربی بنگال میں ان ای ڈی افسران کے خلاف درج ایف آئی آر پر روک لگا دی ہے جنہوں نے آٹھ جنوری کو سیاسی مشاورتی کمپنی انڈین پولیٹیکل ایکشن کمیٹی (آئی-پیک) کے دفتر اور اس کے ڈائریکٹر پرتیک جین کے رہائش گاہ پر چھاپہ مارا تھا۔ عدالت نے ریاستی پولیس کو ہدایت دی ہے کہ چھاپے کی کارروائی کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھی جائے۔
جسٹس پرشانت کمار مشرا اور جسٹس وپل پنچولی پر مشتمل بنچ نے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی، مغربی بنگال حکومت، ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) راجیو کمار اور اعلیٰ پولیس افسران کو ای ڈی کی اُن درخواستوں پر نوٹس جاری کیے ہیں، جن میں آئی-پیک کے احاطے میں چھاپے کے دوران رکاوٹ ڈالنے کے الزام میں ان کے خلاف سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) سے جانچ کرانے کی درخواست کی گئی ہے۔
بنچ نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک میں قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے اور ہر ادارے کو آزادانہ طور پر کام کرنے کی اجازت دینے کے لیے اس معاملے کا جائزہ لینا ضروری ہے، تاکہ کسی مخصوص ریاست کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کی سرپرستی میں مجرموں کو تحفظ نہ مل سکے
عدالت نے مزید کہا،عدالت نے مزید کہا کہ اس میں بڑے سوالات شامل ہیں، جنہیں اگر حل نہ کیا گیا تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے اور مختلف مقامات پر مختلف تنظیموں کی حکمرانی کے سبب کسی نہ کسی ریاست میں انتشار کی کیفیت برقرار رہ سکتی ہے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ کسی سیاسی جماعت کے انتخابی کاموں میں مداخلت کرنے کا اختیار کسی مرکزی ایجنسی کے پاس نہیں ہے، لیکن اگر مرکزی ایجنسیاں کسی سنگین جرم کی تفتیش نیک نیتی سے کر رہی ہوں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا جماعتی سرگرمیوں کی آڑ میں ایجنسیوں کو اپنے فرائض انجام دینے سے روکا جا سکتا ہے؟
معاملے کی اگلی سماعت کے لیے تین فروری کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ اس سے قبل، سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ ای ڈی کے چھاپے سے متعلق معاملے کی سماعت کے دوران کولکتہ ہائی کورٹ میں پیش آئے ہنگامے سے وہ نہایت دل گرفتہ ہے۔
کولکتہ ہائی کورٹ نے سیاسی مشاورتی کمپنی آئی-پیک سے وابستہ مقامات پر ای ڈی کی چھاپہ اور ضبطی کی کارروائی سے متعلق درخواستوں کی سماعت کو عدالت کے اندر ’’بے قابو افراتفری‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے 14 جنوری تک ملتوی کر دیا تھا۔ ای ڈی نے سماعت کے آغاز میں کہا کہ تفتیشی ایجنسی کی چھاپہ کارروائی کے دوران مغربی بنگال حکومت کی ’’مداخلت اور رکاوٹ‘‘ ایک نہایت چونکا دینے والے رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔
ای ڈی کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے بنچ کو بتایا کہ ماضی میں بھی جب بھی قانونی اختیارات کے تحت کارروائی کی گئی، ممتا بنرجی وہاں پہنچیں اور مداخلت کی۔
مہتا نے کہا کہ یہ ایک انتہائی چونکا دینے والا رجحان ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے ایسے اقدامات کی حوصلہ افزائی ہوگی اور مرکزی فورسز کا حوصلہ پست ہوگا۔
سالیسیٹر جنرل نے کہا کہ ریاستوں کو لگے گا کہ وہ مداخلت کر سکتی ہیں، ثبوت ہٹا سکتی ہیں اور پھر دھرنے پر بیٹھ سکتی ہیں۔ ایک مثال قائم کی جانی چاہیے؛ جو افسران وہاں واضح طور پر موجود تھے، انہیں معطل کیا جانا چاہیے۔ مہتا نے کہا کہ ایسے شواہد موجود ہیں جن سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ آئی-پیک کے دفتر میں قابلِ اعتراض مواد موجود تھا۔
انہوں نے کہا کہ بااختیار اتھارٹی کو کارروائی کا حکم دیں اور جو کچھ ہو رہا ہے اس کا نوٹس لیں۔ ہم یہاں اپنے افسران کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے ہیں۔ ہم قانون کے تحت کام کر رہے ہیں اور ذاتی فائدے کے لیے ضبطی نہیں کرتے۔ مہتا نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ ای ڈی کی درخواست پر سماعت کے دوران بڑی تعداد میں وکلا اور دیگر افراد کولکتہ ہائی کورٹ میں داخل ہو گئے تھے، جس کے بعد سماعت ملتوی کر دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب جمہوریت کی جگہ ہجوم کی حکمرانی لے لیتی ہے۔
سینئر وکیل کپل سبل نے مہتا کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ پہلے اس معاملے کی سماعت کولکتہ ہائی کورٹ میں ہونی چاہیے اور عدالتی درجہ بندی کی مناسب پیروی کی جانی چاہیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ای ڈی متوازی کارروائی کر رہی ہے۔
سبل نے چھاپے کی ویڈیو ریکارڈنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ سراسر جھوٹ ہے کہ تمام ڈیجیٹل آلات ضبط کر لیے گئے تھے۔ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی پر تمام آلات لے جانے کا الزام غلط ہے، جس کی تصدیق ای ڈی کے اپنے پنچنامے سے ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کوئلہ گھوٹالے کے معاملے میں آخری بیان فروری 2024 میں درج ہوا تھا؛ اس کے بعد سے ای ڈی کیا کر رہی تھی؟ انتخابات کے دوران اتنی جلد بازی کیوں؟
سپریم کورٹ میں ای ڈی کی یہ درخواست آٹھ جنوری کے اُن واقعات کے بعد دائر کی گئی ہے جب کوئلہ اسمگلنگ کیس سے جڑی جانچ کے سلسلے میں سالٹ لیک میں واقع آئی-پیک کے دفتر اور کولکتہ میں اس کے سربراہ پرتیک جین کے رہائش گاہ پر چھاپوں کے دوران تفتیشی افسران کو رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
تفتیشی ایجنسی نے الزام لگایا ہے کہ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی احاطے میں داخل ہوئیں اور جانچ سے متعلق ’’اہم‘‘ شواہد اپنے ساتھ لے گئیں۔وزیر اعلیٰ نے مرکزی ایجنسی پر دائرۂ اختیار سے تجاوز کرنے کا الزام عائد کیا ہے، جبکہ ان کی جماعت ترنمول کانگریس نے ای ڈی کی جانچ میں ’’رخنہ ڈالنے‘‘ کے الزام کی تردید کی ہے۔ ریاستی پولیس نے ای ڈی افسران کے خلاف ایک ایف آئی آر درج کی ہے۔