کولکاتہ: بنگلہ دیشی مصنفہ اور سماجی کارکن تسلیمہ نسرین نے تقریباً دو دہائیوں بعد کولکاتہ واپسی پر یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ گزشتہ 40 برس سے اس کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں اور کسی بھی مہذب ملک میں اس کا نفاذ ضروری ہے۔کولکاتہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تسلیمہ نسرین نے کہا کہ وہ چار دہائیوں سے یکساں سول کوڈ کے حق میں آواز بلند کر رہی ہیں کیونکہ مذہبی قوانین کی وجہ سے خواتین کے حقوق متاثر ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش میں ہندو خواتین کو مساوی حقوق حاصل نہیں ہیں اور انہیں طلاق کا حق بھی میسر نہیں۔ ان کے مطابق مذہبی قوانین کے باعث خواتین مسلسل مشکلات کا شکار ہیں۔تسلیمہ نسرین نے الزام لگایا کہ بنگلہ دیش میں ہندو برادری کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور محمد یونس کی حکومت کے دوران ان پر مظالم میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بعض مدارس اور مساجد میں ہندوؤں کے خلاف نفرت کی تعلیم دی جا رہی ہے۔انہوں نے جماعت اسلامی کو خواتین کی برابری کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر ملک میں شریعت پر مبنی نظام نافذ ہوا تو اقلیتوں کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔ ان کے مطابق بنگلہ دیش تاریکی کی طرف بڑھ رہا ہے اور حکومت صرف اقتدار بچانے میں مصروف ہے۔عوامی لیگ پر عائد پابندی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ کسی بھی سیاسی جماعت پر پابندی نہیں لگنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ شیخ حسینہ کو ملک چھوڑنے پر مجبور کیا جانا قابل سوال تھا اور عوامی لیگ پر پابندی جمہوریت کے خلاف اقدام ہے، جسے جلد از جلد ختم کیا جانا چاہیے۔
تسلیمہ نسرین نے دعویٰ کیا کہ عوامی لیگ کے متعدد کارکنوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور قتل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ شیخ حسینہ وطن واپس جانا چاہتی ہیں لیکن انہیں یقین نہیں کہ ایسا ممکن ہو سکے گا، جبکہ ان کے اپنے لیے بھی بنگلہ دیش واپسی کے دروازے بند ہیں۔واضح رہے کہ تسلیمہ نسرین 2007 میں اپنی کتاب "دوکھنڈیتو" پر ہونے والے شدید احتجاج کے بعد کولکاتہ چھوڑنے پر مجبور ہو گئی تھیں۔ 1994 سے وہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں۔ اس مرتبہ وہ "سیکولر مشن" نامی تنظیم کی دعوت پر کولکاتہ پہنچی ہیں۔ادھر مغربی بنگال حکومت نے جولائی میں ریٹائرڈ سپریم کورٹ جج جسٹس رنجنا پرکاش دیسائی کی سربراہی میں نو رکنی ماہرین کمیٹی تشکیل دی ہے، جو مجوزہ یکساں سول کوڈ کے مسودے کا جائزہ لے کر اپنی سفارشات پیش کرے گی۔ ریاستی حکومت کا منصوبہ ہے کہ اس قانون کو اگست میں اسمبلی اجلاس کے دوران پیش کیا جائے، جبکہ مجوزہ قانون میں مقامی قبائلی برادریوں کو استثنا دیا جائے گا۔
اس موقع پر مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ سوبندو ادھیکاری نے کہا کہ ایک ملک میں ایک ہی قانون ہونا چاہیے اور دو الگ الگ قانونی نظام نہیں چل سکتے۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی جلد اپنی رپورٹ پیش کرے گی اور یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی سمت میں کام آگے بڑھایا جائے گا۔