نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے پیر کے روز کانگریس کی طلبہ تنظیم نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) کی جانب سے دائر مفادِ عامہ کی ایک عرضی پر مرکزی حکومت اور سی بی ایس ای سے جواب طلب کر لیا۔ عرضی میں جماعت 12 کے امتحانات کے آن اسکرین مارکنگ (او ایس ایم) نظام میں مبینہ بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کی آزادانہ جانچ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
جسٹس نینا بنسل کرشنا اور جسٹس مدھو جین پر مشتمل تعطیلاتی بنچ نے عرضی پر نوٹس جاری کرتے ہوئے مرکزی حکومت اور سی بی ایس ای کو اپنا موقف داخل کرنے کی ہدایت دی اور معاملے کی اگلی سماعت 12 جون مقرر کی۔ درخواست گزار کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ سی بی ایس ای نے گزشتہ رات جوابی کاپیوں کی تصدیق اور دوبارہ جانچ (ری ویلیوایشن) کے لیے قائم پورٹل بند کر دیا ہے۔
عدالت سے استدعا کی گئی کہ متاثرہ طلبہ کے لیے یہ پورٹل مزید ایک ماہ تک کھلا رکھنے کا حکم دیا جائے۔ سی بی ایس ای کی طرف سے وکیل ایم اے نیاز نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ بورڈ نے پورٹل بند کرنے کی آخری تاریخ میں وقتاً فوقتاً توسیع کی تھی اور متاثرہ طلبہ کی شکایات کا مناسب طور پر ازالہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے این ایس یو آئی کی جانب سے مفادِ عامہ کی عرضی دائر کرنے کے حق پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ یہ ایک سیاسی جماعت کی طلبہ تنظیم ہے۔
انہوں نے عدالت سے کہا، ’’ہم نہیں چاہتے کہ تعلیم کو اس طرح سیاست زدہ بنایا جائے۔‘‘ اس کے جواب میں این ایس یو آئی کے وکیل نے کہا کہ تنظیم نے نابالغ طلبہ کی جانب سے یہ عرضی دائر کی ہے اور کسی سیاسی جماعت سے وابستگی قانونی طور پر نااہلی کا سبب نہیں بنتی۔
ایڈووکیٹ رِشَو رنجن کے ذریعے دائر اس عرضی میں متاثرہ طلبہ کی جوابی کاپیوں کی دستی جانچ اور اصل جوابی کاپیوں کی جسمانی تصدیق کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ رواں سال جماعت 12 کے نتائج میں مجموعی کارکردگی میں نمایاں کمی نے طلبہ اور والدین میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ اس کے نتیجے میں آن اسکرین مارکنگ نظام کی شفافیت، یکسانیت اور قابلِ اعتماد ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں، خصوصاً اس تناظر میں کہ متعدد طلبہ نے اسکین شدہ جوابی کاپیوں کی درخواست کی ہے اور سی بی ایس ای خود بھی بعض تکنیکی مسائل اور تضادات سے متعلق شکایات کا اعتراف کر چکا ہے۔