نئی دہلی
مرکزی وزیر برائے روڈ ٹرانسپورٹ و شاہراہیں نتن گڈکری نے جمعرات کو کہا کہ فضائی آلودگی کم کرنے اور درآمدی فوسل فیول پر انحصار گھٹانے کے لیے متبادل ایندھن اور بایو فیول کو اپنانے کی رفتار تیز کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے یہ بات "انڈیا گوز فلیکس" پروگرام میں ماروتی سوزوکی کی پہلی فلیکس فیول کار کی لانچ کے موقع پر کہی۔ گڈکری نے کہا کہ صاف ایندھن کی طرف منتقلی نہ صرف ماحول کے تحفظ بلکہ توانائی کے شعبے میں ملک کو خود کفیل بنانے کے ہدف کے لیے بھی ضروری ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ فضائی آلودگی ہمارے لیے سنگین صحت کے مسائل پیدا کر رہی ہے، اس لیے ماحولیات اور فطرت کا تحفظ ہماری سب سے بڑی ترجیح ہونی چاہیے۔" ٹرانسپورٹ سیکٹر کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر نے کہا، "تقریباً 40 فیصد فضائی آلودگی ٹرانسپورٹ سیکٹر سے جڑی ہوئی ہے، جو ہمارے وزارت کے دائرہ اختیار میں آتی ہے۔ یہ میرے لیے بہت تشویش کی بات ہے، اس لیے ہمارا مقصد آلودگی کو کم کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج فلیکس فیول کار کا آغاز اس سمت میں ایک اہم قدم ہے۔معاشی پہلو پر بات کرتے ہوئے گڈکری نے کہا کہ ملک کو درآمدی فوسل فیول پر انحصار کم کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا، "ہندوستان فوسل فیول کی درآمد پر تقریباً 22 سے 23 لاکھ کروڑ روپے خرچ کرتا ہے۔ اگر ہمیں 'آتم نربھر ہندوستان' کا ہدف حاصل کرنا ہے تو ہمیں درآمدات کم اور برآمدات زیادہ کرنی ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ متبادل ایندھن اور بایو فیول اس مقصد کے حصول میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔وزیر نے آٹو موبائل صنعت کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی اور اسے معیشت اور روزگار کے لیے ایک بڑا محرک قرار دیا۔ انہوں نے کہا، "جب ہماری حکومت آئی تھی تو اس صنعت کا حجم تقریباً 12 لاکھ کروڑ روپے تھا، جو اب بڑھ کر تقریباً 23 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ چکا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ہندوستان دنیا کی تیسری بڑی آٹو موبائل انڈسٹری بن چکا ہے۔ "ہم ساتویں نمبر پر تھے، پھر ہم نے جاپان کو پیچھے چھوڑا اور اب ہم تیسرے نمبر پر ہی۔
گڈکری نے مزید کہا کہ یہ شعبہ روزگار اور ٹیکس آمدن میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ "اس صنعت نے تقریباً 4.5 کروڑ نوجوانوں کو روزگار دیا ہے اور یہ جی ایس ٹی کے ذریعے ریاستی حکومتوں اور مرکزی حکومت دونوں کے لیے سب سے زیادہ ریونیو پیدا کرنے والے شعبوں میں سے ایک ہے۔ اس لیے ہماری ترقی اس صنعت کی ترقی سے براہ راست جڑی ہوئی ہے۔"
تقریب میں مرکزی پیٹرولیم و قدرتی گیس وزیر ہردیپ سنگھ پوری بھی موجود تھے۔