گروگرام: گروگرام کے پوش علاقے سوشانت لوک میں جمعرات کی رات پولیس کی ایک شدید کارروائی، جس میں چار جرائم پیشہ افراد مارے گئے اور ایک زخمی ہوا، کے بعد ہریانہ کے بدنام گینگسٹر دیپک نندل اور اس کے بین الاقوامی بھتہ خوری کے نیٹ ورک کا معاملہ ایک بار پھر خبروں میں آ گیا ہے۔
سوشانت لوک کے اے بلاک میں ہونے والے اس انکاؤنٹر کے دوران 60 سے زائد گولیاں چلیں۔ پولیس کے مطابق دیپک نندل گینگ کے چار مبینہ شوٹر مارے گئے، ایک زخمی ہوا جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں تین پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔ پولیس کے مطابق دیپک نندل گینگ کے پانچ ارکان نے پراپرٹی ڈیلر وشال بیری، جو ایس جی ٹی یونیورسٹی کے بانی کے بیٹے ہیں، کو ان کے گھر میں یرغمال بنا رکھا تھا۔
جب پولیس نے انہیں ہتھیار ڈالنے کی اپیل کی تو انہوں نے فائرنگ شروع کر دی۔ جوابی کارروائی میں گینگ کے چار شوٹر مارے گئے اور ایک زخمی ہو گیا، جبکہ وشال بیری کو بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا۔ دیپک نندل، جو کبھی ہریانوی موسیقی کی دنیا میں پروڈیوسر اور ریپر کے طور پر جانا جاتا تھا، اب دہلی اور ہریانہ میں بھتہ خوری، قتل، اغوا اور تاوان طلب کرنے جیسے متعدد جرائم میں مطلوب ہے۔ پولیس کے مطابق نندل بیرون ملک سے بین الاقوامی بھتہ خوری کا نیٹ ورک چلا رہا ہے اور سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کو اپنے گینگ میں شامل کرتا ہے۔
اگرچہ پولیس نے کسی ملک کا نام نہیں لیا، تاہم خیال کیا جاتا ہے کہ وہ متحدہ عرب امارات، برطانیہ اور کینیڈا میں سرگرم ہے۔ جرائم کی دنیا میں قدم رکھنے سے پہلے نندل نے ہریانوی گلوکار راہل فاضل پوریہ اور ریپر بادشاہ کے ساتھ کئی مقبول گانوں پر کام کیا تھا، جن میں "ہریانہ روڈویز" اور "کر گئی چُل" شامل ہیں۔ "کر گئی چُل" کا ری میک ورژن 2016 کی فلم "کپور اینڈ سنز" میں بھی استعمال کیا گیا تھا۔
فاضل پوریہ متعدد حملوں میں محفوظ رہے ہیں، جن میں جولائی 2025 میں گروگرام کے سیکٹر 71 میں سدرن پیریفرل روڈ پر ان کی گاڑی پر کیا گیا قاتلانہ حملہ بھی شامل ہے، جس میں وہ بال بال بچ گئے تھے۔ اس حملے کے بعد ایک سوشل میڈیا پوسٹ وائرل ہوئی تھی، جس میں گینگسٹر سنیل سردھانیا، دیپک نندل اور اندرجیت یادو نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ فاضل پوریہ نے نندل سے پانچ کروڑ روپے لیے تھے جو واپس نہیں کیے۔ اگست 2025 میں فاضل پوریہ کے قریبی ساتھی روہت شوکین کو گروگرام میں دن دہاڑے گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا، جس کی ذمہ داری بھی دیپک نندل نے قبول کی تھی۔
پولیس کے مطابق رواں سال مئی میں نندل کے شوٹروں نے گروگرام کے کنہئی گاؤں میں فاضل پوریہ کے ایونٹ منیجر سوربھ یادو کے گھر پر بھی فائرنگ کی تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دیپک نندل نے ابتدا میں مقامی جھگڑوں اور غیر قانونی اسلحے کی اسمگلنگ کے ذریعے جرائم کی دنیا میں قدم رکھا۔ بعد میں وہ بھتہ خوری اور سپاری لے کر قتل کرنے جیسے سنگین جرائم میں ملوث ہو گیا، جس کے بعد روہتک اور سونی پت پولیس کی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل کر لیا گیا۔ ہریانہ پولیس کی اسپیشل ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف) کے تعاقب کے دوران نندل نے 2023 میں ملک سے فرار ہونے کا منصوبہ بنایا اور بیرون ملک فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔
اس کے بعد سے وہ بیرون ملک بیٹھ کر اپنے بھتہ خوری کے نیٹ ورک کو چلا رہا ہے، جبکہ ہندوستانی پولیس اس کی واپسی کے لیے ریڈ کارنر نوٹس جاری کرانے کی قانونی کارروائی میں مصروف ہے۔ پولیس کے مطابق دیپک نندل فیس بک، انسٹاگرام اور یوٹیوب پر سرگرم رہتا ہے، جہاں سے وہ نوجوانوں سے رابطہ کر کے انہیں اپنے گینگ میں شامل کرتا ہے۔ وہ واٹس ایپ اور سگنل جیسی ایپس کے ذریعے بھی اپنی غیر قانونی سرگرمیاں چلاتا ہے اور جن فائرنگ کے واقعات کی منصوبہ بندی کرتا ہے، ان کی ذمہ داری سوشل میڈیا پر فوری طور پر قبول کر لیتا ہے۔