اوساکا: مرکزی وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے جمعرات کو جاپانی کمپنیوں، خاص طور پر کانسائی خطے کی کمپنیوں کو ہندوستان کے تیزی سے ترقی کرتے سیمی کنڈکٹر شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ وہ یہاں سرمایہ کاروں اور کاروباری نمائندوں کے روڈ شو سے خطاب کر رہے تھے۔
گوئل نے کہا کہ ہندوستان کے پہلے سیمی کنڈکٹر مشن کے تحت 10 ارب امریکی ڈالر کی ابتدائی سرمایہ کاری کی گئی تھی، جس نے ریاستی حکومتوں کی حمایت کے ساتھ مل کر اس شعبے میں 20 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کو راغب کیا۔ اس بنیاد پر حکومت نے اب 15 ارب امریکی ڈالر کے بجٹ کے ساتھ سیمی کنڈکٹر انڈیا مشن 2.0 شروع کیا ہے۔ ریاستی حکومتوں کی مساوی مراعات کے ساتھ حکومت کو امید ہے کہ اس سے مزید 50 ارب امریکی ڈالر کی نئی سرمایہ کاری متحرک ہوگی۔ گوئل نے کہا، ’’ہم اس سے کہیں زیادہ رقم فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں، کیونکہ ہم ہندوستان میں سیمی کنڈکٹرز کی بڑھتی ہوئی مانگ دیکھ رہے ہیں۔‘‘
انہوں نے اندازہ ظاہر کیا کہ اگلے پانچ برسوں میں ہندوستان میں سیمی کنڈکٹرز کی سالانہ کھپت 150 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ جائے گی۔ انہوں نے اسے ’’ہندوستان میں جدت لانے اور ہندوستان میں تیار کرنے‘‘ کا ایک بڑا موقع قرار دیا۔ مرکزی وزیر نے افرادی قوت کی نقل و حرکت سے متعلق ایک پہل کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم تاکائیچی نے مختلف شعبوں میں 3 لاکھ ہندوستانیوں کو جاپان آنے کا موقع دینے کی آمادگی ظاہر کی ہے تاکہ وہاں کی معیشت کو تقویت دی جا سکے۔ گوئل نے تجویز پیش کی کہ کانسائی خطے کی کمپنیاں شراکت داری کے ذریعے ان کارکنوں کو جاپان جانے سے قبل جاپانی کام کے اصولوں، ثقافت اور زبان کی تربیت فراہم کریں۔
انہوں نے کانسائی کے صنعتی رہنماؤں سے ہندوستان کا دورہ کرنے، سرمایہ کاری کرنے اور مشترکہ نمائشوں، شعبہ جاتی مذاکرات اور تبادلے کے سیمینارز کے ذریعے باہمی تعاون کو مزید گہرا کرنے کی اپیل کی۔ گوئل نے فوڈ پروسیسنگ کو بھی تعاون کے لیے ایک اہم شعبہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان جاپانی معیار سے سیکھ کر پروسیس شدہ غذاؤں کے معیار کو بہتر بنا سکتا ہے، جبکہ جاپانی کمپنیاں ہندوستان کو ایک بڑی منڈی کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کے شراکت دار کے طور پر بھی استعمال کر سکتی ہیں۔
بحری شعبے کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ اس وقت ہندوستان کے تقریباً 2.5 لاکھ بحری ملازمین دنیا بھر میں مختلف بحری جہازوں پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ میڈیٹیرینین شپنگ کمپنی (ایم ایس سی) کے ساتھ بات چیت کے بعد، جس نے ممبئی میں ایک بڑی بحری تربیتی اکیڈمی قائم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، گوئل نے جاپانی شپنگ کمپنیوں اور تربیتی اداروں کے ساتھ بھی اسی طرح کی شراکت داری کی اپیل کی۔
انہوں نے کہا کہ صرف ایم ایس سی نے ہی ہندوستانی بحری کارکنوں کو بڑے پیمانے پر ملازمت دینے کی صلاحیت کا اشارہ دیا ہے، جو دنیا بھر میں ہندوستانی بحری اہلکاروں کی زبردست مانگ کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے ہندوستانی بحری کارکنوں کو ’’محنتی‘‘، ’’ہنرمند‘‘ اور ’’با صلاحیت‘‘ قرار دیا۔ گوئل نے کہا کہ سیمی کنڈکٹرز، انسانی وسائل، فوڈ پروسیسنگ اور شپنگ سمیت ان شعبوں میں تعاون جاپانی کمپنیوں کے لیے آنے والے برسوں میں ہندوستان کی ترقی کی کہانی کا حصہ بننے کے ’’اہم مواقع‘‘ فراہم کرتا ہے۔