رائے بریلی : راہل گاندھی نے بدھ کے روز بھارتیہ جنتا پارٹی اور وزیر اعظم نریندر مودی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ملک کے معاشی نظام کو کمزور کیا ہے اور عوام کو مہنگائی کے “اقتصادی طوفان” کے دہانے پر کھڑا کر دیا ہے۔
راہل گاندھی نے بہوجن سوابھیمان سبھا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم ایک طرف عوام کو سادگی اختیار کرنے، سونا نہ خریدنے اور بیرون ملک سفر نہ کرنے کا مشورہ دیتے ہیں، جبکہ دوسری طرف خود مہنگے سرکاری طیارے میں بیرون ملک دوروں پر جاتے ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ ملک میں مہنگائی بڑھ رہی ہے، کھاد کی قلت پیدا ہو سکتی ہے اور عام شہری معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق حکومت نے معیشت کو چند بڑے صنعتی گروہوں اور بیرونی مفادات کے حوالے کر دیا ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ “یہ اقتصادی نظام اب عوام کے لیے نہیں رہا” اور دعویٰ کیا کہ اس سے ملک میں عدم مساوات بڑھ رہی ہے۔
انہوں نے امبیڈکر اور مہاتما گاندھی کی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آئین تمام شہریوں کو برابر حقوق دیتا ہے اور اسے محفوظ رکھنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک کسی ایک ذات یا تنظیم کی ملکیت نہیں بلکہ تمام شہریوں کا ہے، اور آئین ہی عوام کی آواز ہے۔
ان کے مطابق راشٹریہ سویم سیوک سنگھ اور اس کے نظریات آئینی اقدار کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ راہل گاندھی نے اس سے قبل لودھواڑی میں ویر پاسّی کے مجسمے کی نقاب کشائی بھی کی۔ ان کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب وزیر اعظم نریندر مودی اپنے پانچ ملکی دورے کے آخری مرحلے میں اٹلی میں موجود تھے۔ اس سے قبل وہ ناروے، سویڈن، نیدرلینڈز اور متحدہ عرب امارات کا دورہ کر چکے ہیں۔