نئی دہلی
راجیہ سبھا انتخابات کے لیے کانگریس رہنما میناکشی نٹراجن کے نامزدگی فارم مسترد کیے جانے کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے جمعہ کو کہا کہ اگر کسی امیدوار کا نامزدگی فارم انتخابی افسر مسترد کر دے تو اس کے پاس راحت حاصل کرنے کے لیے الیکشن کمیشن آف انڈیا سے رجوع کرنے کے علاوہ کوئی اور مؤثر راستہ نہیں ہوتا۔
عدالت نے نٹراجن سے یہ بھی پوچھا کہ کیا وہ کوئی ایسا عدالتی فیصلہ پیش کر سکتی ہیں جس میں عدالت نے اس نوعیت کے معاملے میں مداخلت کی ہو۔جسٹس پرشانت کمار مشرا اور جسٹس اتل ایس چندورکر پر مشتمل بنچ نے کہا کہ فیصلہ چاہے کتنا ہی غلط کیوں نہ ہو، ایک بار نامزدگی مسترد ہو جائے تو عموماً اس کا علاج کسی اور فورم پر دستیاب ہوتا ہے۔ کیا اس عدالت کا کوئی ایسا فیصلہ موجود ہے جس میں ہم نے اس مرحلے پر مداخلت کی ہو؟
نٹراجن کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل ابھیشیک سنگھوی نے مؤقف اختیار کیا کہ امیدوار صرف انہی فوجداری مقدمات کی تفصیلات ظاہر کرنے کا پابند ہوتا ہے جن میں کم از کم دو سال قید کی سزا کا امکان ہو۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ معاملے میں صرف سمن جاری کیے گئے تھے۔
سنگھوی نے کہا کہ مدھیہ پردیش سے راجیہ سبھا انتخابات کے لیے میناکشی نٹراجن کا نامزدگی فارم انتخابی افسر نے عوامی نمائندگی قانون کے تحت ایک فوجداری مقدمے کی تفصیلات ظاہر نہ کرنے کے الزام میں غلط طور پر مسترد کیا۔راجیہ سبھا انتخابات کے ریٹرننگ افسر اروند شرما کے حکم نامے میں کہا گیا کہ دستیاب دستاویزات کی جانچ کے بعد یہ پایا گیا کہ نٹراجن نے اپنے نامزدگی فارم کے ساتھ جمع کرائے گئے فارم-26 میں ایک عدالتی شکایت کا ذکر نہیں کیا اور اس طرح نامکمل حلف نامہ جمع کرایا۔
مدھیہ پردیش اسمبلی کے ایک افسر کے مطابق حکمراں جماعت بی جے پی کے امیدوار مہیش کیوٹ نے انتخابی افسر سے شکایت کی تھی کہ نٹراجن نے اپنے حلف نامے میں تلنگانہ میں اپنے خلاف درج ایک مقدمے کا ذکر نہیں کیا۔