گہلوت نے سینیٹری نیپکن اسکیم میں بدعنوانی کا الزام لگایا

Story by  اے این آئی | Posted by  Aamnah Farooque | Date 28-04-2026
گہلوت نے سینیٹری نیپکن اسکیم میں بدعنوانی کا الزام لگایا
گہلوت نے سینیٹری نیپکن اسکیم میں بدعنوانی کا الزام لگایا

 



نئی دہلی:
راجستھان کے سابق وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے ریاست کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت پر لڑکیوں اور خواتین کو سینیٹری نیپکن فراہم کرنے کی اسکیم میں بدعنوانی کا الزام لگاتے ہوئے منگل کے روز اس معاملے کی اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔
اسکولوں میں مفت تقسیم کیے جانے والے سینیٹری نیپکن کے معیار پر سوال اٹھاتے ہوئے گہلوت نے ‘ایکس’ پر لکھا، ’’ہماری کانگریس حکومت نے ریاست کی خواتین اور بچیوں کی ‘مینسٹرؤل ہائجین’ (ماہواری سے متعلق صفائی) اور وقار کو یقینی بنانے کے لیے ‘اڑان یوجنا’ جیسی منفرد پہل کی تھی۔ سپریم کورٹ نے بھی ملک بھر کے اسکولوں میں طالبات کو مفت سینیٹری پیڈ فراہم کرنے کی ہدایت دے کر اس سمت میں ہمارے ویژن کی توثیق کی ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ لیکن آج یہ دیکھ کر بہت تکلیف ہوتی ہے کہ ناری شکتی کے بارے میں بڑی بڑی باتیں کرنے والی بی جے پی کی حقیقت کیا ہے۔ پہلے تو تقریباً دو سال تک اس اسکیم کو بند رکھا گیا اور اب موجودہ حکومت اس اہم اسکیم میں بدعنوانی کر رہی ہے۔‘
کانگریس رہنما نے کہا کہ معیارات کو نظر انداز کرتے ہوئے بچیوں کو ایسے گھٹیا معیار کے سینیٹری نیپکن تقسیم کیے جا رہے ہیں، جن سے انہیں سنگین انفیکشن کا خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔‘‘