ترواننت پورم : سینئر رکن اسمبلی جی سُدھاکرن نے بدھ کے روز کیرالہ قانون ساز اسمبلی کے پروٹیم اسپیکر کے طور پر حلف اٹھا لیا۔ حلف برداری کی تقریب راج بھون میں منعقد ہوئی، جہاں وی ڈی ستیسن اور گورنر راجیندر وشواناتھ آرلیکر بھی موجود تھے۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (UDF) نے پیر کے روز باضابطہ طور پر کیرالہ میں اقتدار سنبھالا، جس کے ساتھ ہی لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ (LDF) کی دس سالہ حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔ ریاستی دارالحکومت کے سینٹرل اسٹیڈیم میں منعقدہ ایک شاندار تقریب میں 61 سالہ وی ڈی ستیسن نے کیرالہ کے 13ویں وزیر اعلیٰ کے طور پر عہدے اور رازداری کا حلف لیا۔
حلف برداری کے فوراً بعد وزیر اعلیٰ وی ڈی ستیسن نے اپنی پہلی کابینہ میٹنگ کی صدارت کی، جس میں انتخابی وعدوں پر فوری عملدرآمد کے لیے کئی اہم فیصلے کیے گئے۔ کابینہ نے خواتین کے لیے کے ایس آر ٹی سی بسوں میں مفت سفر کی منظوری دی، بزرگ شہریوں کی فلاح کے لیے ایک علیحدہ محکمہ قائم کرنے کا اعلان کیا، جبکہ آشا ورکرس کے اعزازیہ میں 3000 روپے ماہانہ اضافے کی منظوری بھی دی گئی۔
اس کے علاوہ آنگن واڑی کارکنوں، اسکولوں کے باورچی عملے، پری پرائمری اساتذہ اور آیا کے لیے بھی 1000 روپے ماہانہ اضافے کا اعلان کیا گیا۔ کابینہ نے 2023 میں سابق وزیر اعلیٰ پِنرائی وجین کی قیادت میں نکالی گئی “نوا کیرالہ یاترا” کے دوران کانگریس رہنماؤں پر مبینہ حملوں کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) بھی تشکیل دی۔
وی ڈی ستیسن نے کہا کہ 15 جون سے خواتین کو کے ایس آر ٹی سی بسوں میں مفت سفر کی سہولت دی جائے گی اور بزرگ افراد کے لیے نیا محکمہ قائم کیا جائے گا۔ گورنر راجیندر وشواناتھ آرلیکر نے وزیر اعلیٰ کے ساتھ 20 وزراء کو بھی حلف دلایا، جن میں 14 پہلی بار وزیر بننے والے اراکین، دو خواتین اور درج فہرست ذات سے تعلق رکھنے والے دو نمائندے شامل ہیں۔ کانگریس کو کابینہ میں 11 وزارتیں ملیں، جبکہ اس کی اہم اتحادی جماعت انڈین یونین مسلم لیگ کو 5 وزارتیں دی گئیں۔
اس کے علاوہ کیرالہ کانگریس (جوزف)، کیرالہ کانگریس (جیکب)، ریولوشنری سوشلسٹ پارٹی اور سی پی آئی (ایم) کو ایک ایک وزارت ملی۔ وی ڈی ستیسن نے یہ بھی اعلان کیا کہ سینئر رکن اسمبلی تھروونچور رادھاکرشنن کو اسمبلی کا اسپیکر اور شانیمول عثمان کو ڈپٹی اسپیکر مقرر کیا جائے گا۔ 140 رکنی کیرالہ قانون ساز اسمبلی کے انتخابات 9 اپریل کو منعقد ہوئے تھے جبکہ نتائج 4 مئی کو جاری کیے گئے۔ یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ نے 102 نشستیں حاصل کیں، لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ کو 35 نشستیں ملیں جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے 3 نشستیں جیتیں۔