کولکاتا: مغربی بنگال حکومت نے 16 جولائی کو ہونے والی امسال کی رتھ یاترا سے قبل ریاست بھر کی 60 رتھ یاترا کمیٹیوں کو پانچ، پانچ لاکھ روپے کی مالی امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ریاست کے مذہبی ورثے کے تحفظ کو فروغ دینا بتایا گیا ہے۔
حکومتی اعلان کے مطابق ہر سال کولکاتا اور ریاست کے مختلف علاقوں میں بڑی تعداد میں رتھ یاترا کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ پہلے ریاستی حکومت کا کردار زیادہ تر ٹریفک پولیس کی تعیناتی تک محدود رہتا تھا، لیکن اب حکومت وزیر اعظم نریندر مودی کے وژن "وکاس بھی، وراثت بھی" سے رہنمائی لیتے ہوئے رتھ یاترا میں فعال کردار ادا کرے گی۔ حکومت نے 60 ممتاز رتھ یاترا کمیٹیوں کو پانچ، پانچ لاکھ روپے کی گرانٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس کے علاوہ ریاست بھر میں 75 روایتی رتھ یاترا میلوں میں سیوا کیندر (خدمت مراکز) قائم کیے جائیں گے، جہاں یاتریوں کو مختلف ضروری سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ حکام کے مطابق ان خدمت مراکز پر زائرین کے لیے بنیادی طبی امداد، پینے کے پانی اور دیگر ضروری خدمات دستیاب ہوں گی۔
حکومت نے اعتراف کیا کہ مستفید ہونے والی کمیٹیوں کی فہرست پہلی مرتبہ تیار کی گئی ہے، اس لیے اگر کوئی مستحق کمیٹی اس بار شامل نہ ہو سکی ہو تو اس پر درگزر سے کام لینے کی اپیل کی گئی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ آئندہ برسوں میں مزید جامع اور درست فہرست تیار کی جائے گی اور اس منصوبے کو مسلسل وسعت دی جائے گی۔ یہ اعلان ریاستی سیکریٹریٹ میں رتھ یاترا کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ ایک رابطہ اجلاس کے دوران کیا گیا۔
اسی موقع پر حکومت نے آئندہ شراون میلہ کے دوران بھی زائرین کے لیے خصوصی انتظامات کا اعلان کیا۔ شیورافولی سے تارکیشور تک ہر پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر سیوا کیندر قائم کیے جائیں گے، تاکہ گنگا جل لے جانے والے عقیدت مندوں کو راستے میں ضروری سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔ حکومت نے یہ بھی بتایا کہ تارکیشور دھام میں 15 کروڑ روپے کے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ رتھ یاترا کے موقع پر تین اہم زیارتی مراکز، تارکیشور، جلپائی گوڑی ضلع کا جلپیش مندر اور بھوٹان کی سرحد کے قریب جینتی علاقے کا ایک مندر، میں زائرین کے لیے خصوصی انتظامات کیے جائیں گے۔ ان مقامات پر پولیس امدادی کیمپ، عارضی طبی مراکز، پینے کے پانی، او آر ایس اور آرام گاہوں کی سہولت فراہم کی جائے گی۔
حکومت نے کہا کہ دیگر ریاستوں میں مذہبی روایات کی سرکاری سطح پر بھرپور سرپرستی کی جاتی ہے، جبکہ مغربی بنگال میں طویل عرصے تک ایسا نہیں ہوا۔ اب ریاستی حکومت اس روایت کو فروغ دینے کے لیے تعاون کرے گی۔ مزید بتایا گیا کہ اگر موسم سازگار رہا تو شراون کے مقدس مہینے میں ہر پیر کے روز ہیلی کاپٹر کے ذریعے یاتریوں پر گلاب کی پتیاں نچھاور کی جائیں گی۔
حکومت نے یہ بھی اعلان کیا کہ ریاستی بجٹ میں "پلگریمیج سرکٹ" کی ترقی کے لیے خصوصی رقم مختص کی گئی ہے، جس کے تحت مذہبی اور تاریخی اہمیت کے حامل مقامات کی حفاظت اور ترقی کا کام کیا جائے گا۔ اس منصوبے کے تحت کیرتیشوری سمیت کئی قدیم مٹھوں اور مندروں کی بحالی کی جائے گی اور مذہبی مقامات کی دیکھ بھال اور تحفظ کے لیے ایک ہزار کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ حکومت نے یہ بھی بتایا کہ بھارت سیواشرم سنگھ کے زیر انتظام اسپتالوں کو آیوشمان بھارت اسکیم کے تحت شامل کر لیا گیا ہے۔