کولکاتا: انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے راجیہ سبھا رکن ندیم الحق سے وابستہ ایک اردو اخبار میں تقریباً 60 کروڑ روپے کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں کا پتہ لگایا ہے۔ حکام نے منگل کو یہ اطلاع دی۔ ندیم الحق اور ان کے میڈیا ادارے سے وابستہ مقامات پر ای ڈی کی کارروائی 7 ستمبر کی صبح شروع ہوئی تھی اور 24 گھنٹے سے زائد جاری رہنے کے بعد منگل کی صبح مکمل ہوئی۔
ای ڈی کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر پی ٹی آئی کو بتایا، ’’لین دین کی تفصیلات جاننے، رقم کی منتقلی کے راستے کا پتہ لگانے اور زیر تفتیش رقم کی نوعیت اور ذرائع کا تعین کرنے کے لیے مالی ریکارڈ اور ڈیجیٹل دستاویزات کی جانچ کی جا رہی ہے۔‘‘ ذرائع کے مطابق مرکزی تفتیشی ایجنسی اخبار سے متعلق مبینہ غیر قانونی مالی لین دین کی تحقیقات کر رہی ہے۔ یہ بھی جانچ کی جا رہی ہے کہ آیا کچھ رقم حوالہ کے ذریعے منتقل کی گئی تھی۔
تلاشی کے دوران ای ڈی کے اہلکاروں نے بینک لین دین کے ریکارڈ، مالی دستاویزات اور ڈیجیٹل مواد کی جانچ کی۔ انہوں نے کولکاتا میں ندیم الحق کی رہائش گاہ اور دفتر میں ان سے پوچھ گچھ بھی کی۔ عہدیدار کے مطابق ای ڈی کے تفتیش کار ٹی ایم سی سے منسلک مبینہ رقوم کی منتقلی کی بھی جانچ کر رہے ہیں۔
ای ڈی ذرائع کے مطابق، تفتیش کاروں کو تقریباً 60 کروڑ روپے کے لین دین میں ایسی بے ضابطگیاں ملیں جن کے لیے فوری طور پر تسلی بخش دستاویزی ریکارڈ دستیاب نہیں ہو سکا۔ مرکزی ایجنسی اب یہ جانچ کر رہی ہے کہ آیا یہ لین دین حقیقی کاروباری معاملات تھے یا رقم حوالہ سمیت غیر رسمی ذرائع سے منتقل کی گئی تھی۔ دہلی اور رانچی میں مزید سات مقامات پر بھی اسی طرح کی تلاشی لی گئی۔
ان میں شہر کے پارک سرکس علاقے میں واقع اخبار کا دفتر اور ندیم الحق سے وابستہ دیگر مقامات شامل ہیں۔ عہدیدار کے مطابق کارروائی شروع ہونے کے وقت ٹی ایم سی کے رکن پارلیمنٹ رانچی میں تھے۔ بعد میں پیر کی رات انہیں کولکاتا لایا گیا، جہاں ان کی رہائش گاہ اور دفتر میں تلاشی کے دوران پوچھ گچھ کی گئی۔
یہ تحقیقات ودھان نگر پولیس کمشنریٹ کی جانب سے درج ایف آئی آر اور اس کے بعد ای ڈی کی طرف سے درج کی گئی انفورسمنٹ کیس انفارمیشن رپورٹ (ECIR) کی بنیاد پر کی جا رہی ہیں۔ معاملے میں غیر قانونی اور غیر محسوب مالی لین دین اور مشتبہ ذرائع سے رقم وصول کرنے کے الزامات شامل ہیں۔ ای ڈی نے اب تک اس معاملے میں کسی کو گرفتار نہیں کیا ہے۔