نئی دہلی: سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ اتر پردیش گینگسٹرز اینڈ اینٹی سوشل ایکٹیویٹیز (پریوینشن) ایکٹ، 1986 کے غلط استعمال کا خدشہ ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ محض کسی شخص کو ’’گینگسٹر‘‘ قرار دے کر اسے سزا نہیں دی جا سکتی اور اس قانون کو ’’Stillborn‘‘ یعنی ابتدا ہی سے قانونی طور پر بے جان قرار دیا۔
جسٹس جے بی پارڈی والا اور جسٹس کے ونود چندرن کی بنچ نے کہا کہ تشدد اور منظم جرائم پر قابو پانے کے لیے بنایا گیا یہ قانون بے قصور شہریوں کے خلاف بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ قانون میں ’’گینگ‘‘ کی تعریف میں متعدد جرائم کو شامل کیا گیا ہے اور گینگسٹر کو گینگ کا رکن، سربراہ یا منتظم قرار دیا گیا ہے، لیکن کسی شخص کو محض گینگسٹر قرار دینے پر سزا مقرر کی گئی ہے، جبکہ قانون خود کوئی الگ جرم تخلیق نہیں کرتا۔
عدالت کے مطابق یہی خامی اس قانون کو قانونی طور پر ’’بے جان‘‘ بناتی ہے۔ عدالت نے انگریز مصنف جارج آرویل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’’جو لوگ تشدد کو مسترد کرتے ہیں، وہ ایسا صرف اس لیے کر سکتے ہیں کہ دوسرے لوگ ان کی طرف سے تشدد کر رہے ہوتے ہیں۔‘‘
سپریم کورٹ نے کہا کہ جرائم پیشہ گروہوں کے خطرے پر قابو پانا ضروری ہے، لیکن مقصد حاصل کرنے کے لیے کوئی بھی طریقہ اختیار نہیں کیا جا سکتا، خاص طور پر ایسا فوجداری قانون نہیں جو شہریوں کی آزادی میں مداخلت کرے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اس قانون کی دفعات کے تحت کسی ملزم کو طویل عرصے تک بغیر مقدمے کے حراست میں رکھا جا سکتا ہے، جو دراصل احتیاطی حراست کے مترادف ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت بعض حالات میں احتیاطی حراست کی اجازت ہے، لیکن اس کے لیے سخت حفاظتی ضوابط موجود ہیں اور معمولی قانونی خلاف ورزی بھی حراست میں لیے گئے شخص کی رہائی کا سبب بن سکتی ہے۔
بنچ نے کہا، ’’معاشرے کو درپیش خطرہ کتنا ہی سنگین کیوں نہ ہو، اس سے نمٹنے کے لیے بنایا گیا کوئی بھی فوجداری قانون کسی ایسے شخص کے خلاف من مانی اور غیر معقول کارروائی کی اجازت نہیں دے سکتا جس پر جرم کا الزام لگایا گیا ہو۔‘‘ سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ دو وکلا کے خلاف اتر پردیش گینگسٹرز اینڈ اینٹی سوشل ایکٹیویٹیز (پریوینشن) ایکٹ، 1986 کے تحت درج فوجداری مقدمہ خارج کرتے ہوئے سنایا۔