پنجاب : وزیر سنجیو اروڑہ کے گھر پر ای ڈی کا چھاپہ

Story by  اے این آئی | Posted by  Aamnah Farooque | Date 17-04-2026
پنجاب : وزیر سنجیو اروڑہ کے گھر پر ای ڈی کا چھاپہ
پنجاب : وزیر سنجیو اروڑہ کے گھر پر ای ڈی کا چھاپہ

 



نئی دہلی:
ای ڈی نے جمعہ کے روز پنجاب کے وزیر اور رکن اسمبلی سنجیو اروڑہ، ان کے بیٹے  کاویہ اروڑااور ان کے دو کاروباری شراکت داروں کے گھروں پر ہریانہ، چندی گڑھ اور پنجاب میں چھاپے مارے۔ یہ کارروائی فارن ایکسچینج مینجمنٹ ایکٹ (فیمہ) کے تحت جاری تحقیقات کے سلسلے میں کی گئی۔
حکام کے مطابق، یہ چھاپے جمعہ کی صبح سے جاری ہیں اور ہریانہ کے گروگرام، چندی گڑھ، اور پنجاب کے لدھیانہ اور جالندھر میں واقع 13 مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کارروائیوں میں سنجیو اروڑا، ان کے شراکت دار ہیمنت سود (لدھیانہ) اور چندر شیکھر اگروال (جالندھر) کے گھروں اور دفاتر کی تلاشی لی گئی۔
حکام کے مطابق، سنجیو اروڑا ہیمپٹن اسکائی ریئلٹی لمیٹڈ نامی کمپنی کے بانی ہیں، جو پنجاب میں بڑے پیمانے پر رئیل اسٹیٹ اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں سرگرم ہے۔ ان کے بیٹے کاویا اروڑا، جو اس وقت کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر ہیں، بھی تحقیقات کے دائرے میں ہیں اور ان کے مقامات پر بھی تلاشی جاری ہے۔
تفتیشی افسران کمپنی سے جڑی متعدد مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کا جائزہ لے رہے ہیں، جن میں زمین کے استعمال میں غیر قانونی تبدیلیاں، شیئر کی قیمتوں میں ہیرا پھیری کے لیے جعلی اور بڑھا چڑھا کر سیل بکنگ، اندرونی تجارت (انسائیڈر ٹریڈنگ)، اور متحدہ عرب امارات سے مبینہ طور پر رقوم کی واپسی (راؤنڈ ٹرپنگ) شامل ہیں۔
حکام کے مطابق، ہیمنت سود، جو لدھیانہ، گروگرام اور گجرات کے گفٹ سٹی میں فِنڈوک فِنویسٹ پرائیویٹ لمیٹڈ کے نام سے مالی سرمایہ کاری اور اسٹاک بروکریج کمپنی چلاتے ہیں، سنجیو اروڑا کے شراکت دار ہیں اور انہوں نے مبینہ طور پر متحدہ عرب امارات سے غیر قانونی رقوم واپس لانے اور انسائیڈر ٹریڈنگ کے ذریعے ناجائز منافع حاصل کرنے میں مدد کی۔ ان پر یہ الزام بھی ہے کہ انہوں نے کئی سٹے بازوں اور حوالہ آپریٹروں کو غیر قانونی رقم کو صاف کرنے اور اسے غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاری کے ذریعے دوبارہ ہندوستان لانے میں مدد دی۔
مزید یہ کہ جالندھر کے تاجر چندر شیکھر اگروال کے بارے میں بتایا گیا کہ انہوں نے ابتدا کرکٹ سٹے باز کے طور پر کی اور بعد میں حوالہ کاروبار تک اپنے نیٹ ورک کو بڑھایا۔ انہوں نے “کھلاڑی بک” کے نام سے ایک سٹہ بازی پلیٹ فارم بھی شروع کیا، جس کے ذریعے ہزاروں غریب افراد کو دھوکہ دیا گیا۔ حکام کے مطابق، چندر شیکھر اگروال کی غیر قانونی کمائی، جو متحدہ عرب امارات میں رکھی گئی تھی، اسے فِنڈوک کے ذریعے دوبارہ ہندوستان لا کر سنجیو اروڑا کے ذریعے رئیل اسٹیٹ میں لگایا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ سنجیو اروڑا پر یہ بھی شبہ ہے کہ وہ پنجاب میں غیر قانونی سٹہ بازی کرنے والوں کو اپنی سیاسی اثر و رسوخ کے ذریعے تحفظ فراہم کرتے تھے، تاکہ ان کے منافع میں حصہ حاصل کر سکیں، اور اپنی کمپنیوں اور مختلف ذرائع کے ذریعے ان کی غیر حساب شدہ رقم کو قانونی سرمایہ کاری میں تبدیل کرنے میں مدد دیتے تھے، جس سے منی لانڈرنگ میں سہولت فراہم کی گئی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سنجیو اروڑا کی کمپنیاں جعلی برآمدی بل بنانے، متحدہ عرب امارات سے رقوم کی واپسی، اور غیر موجود جی ایس ٹی اداروں کے ذریعے جعلی خریداری درج کرنے کے الزامات کے تحت بھی زیر تفتیش ہیں۔