ای ڈی نے این سی آر، کرناٹک کے چھاپوں میں گیمس کرافٹ کے 3 ایگزیکٹو کو گرفتار کیا

Story by  اے این آئی | Posted by  Aamnah Farooque | Date 08-05-2026
ای ڈی نے این سی آر، کرناٹک کے چھاپوں میں گیمس کرافٹ کے 3 ایگزیکٹو کو گرفتار کیا
ای ڈی نے این سی آر، کرناٹک کے چھاپوں میں گیمس کرافٹ کے 3 ایگزیکٹو کو گرفتار کیا

 



نئی دہلی
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے جمعہ کو گیمزکرافٹ ٹیکنالوجیز لمیٹڈ کے 3 بانیوں کو منی لانڈرنگ روک تھام قانون کے تحت گرفتار کر لیا۔دیپک سنگھ اور پرتھوی راج سنگھ کو قومی راجدھانی خطے سے گرفتار کیا گیا، جبکہ وکاس تنیجا کو بنگلورو سے حراست میں لیا گیا۔ بعد ازاں ای ڈی نے دیپک اور پرتھوی کا ٹرانزٹ ریمانڈ حاصل کیا تاکہ انہیں بنگلورو کی متعلقہ عدالت میں پیش کیا جا سکے، جبکہ تنیجا کو مقامی عدالت میں پیش کیا گیا۔
یہ گرفتاریاں 7 مئی کو ای ڈی کی جانب سے کرناٹک اور این سی آر کے 17 مقامات پر کی گئی چھاپہ کارروائیوں کے بعد عمل میں آئیں، جو گیمزکرافٹ گروپ کی کمپنیوں، ان کے بانیوں اور ملازمین سے متعلق تھیں۔حکام کے مطابق چھاپوں کے دوران کئی اہم اور مشتبہ دستاویزات ضبط کی گئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دستیاب مواد کی بنیاد پر یہ پایا گیا کہ گیمزکرافٹ گروپ کے بانی منی لانڈرنگ کے جرم میں ملوث ہیں۔
گیمزکرافٹ ٹیکنالوجیز لمیٹڈ اور اس سے وابستہ دیگر اداروں کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ متعدد ایف آئی آر کی بنیاد پر درج کیا گیا ہے، جو دھوکہ دہی اور فراڈ سے متعلق ہیں۔ کمپنی اور اس کے بانی “رمی کلچر” اور “رمی ٹائم” جیسے آن لائن حقیقی رقم والے کھیل چلا رہے تھے۔کمپنی کے خلاف ایسے کئی مقدمات بھی درج ہیں جو متاثرین کی خودکشی سے متعلق ہیں۔اس سے قبل صدر دروپدی مرمو نے “آن لائن گیمنگ فروغ و ضابطہ قانون 2025” کو منظوری دے دی تھی، جسے پارلیمنٹ نے منظور کیا تھا۔یہ قانون ای اسپورٹس اور آن لائن سماجی کھیلوں کو فروغ دینے کے لیے لایا گیا، جبکہ نقصان دہ آن لائن رقم والے کھیلوں، ان کے اشتہارات اور مالی لین دین پر پابندی عائد کی گئی۔
قانون کے تحت مہارت، قسمت یا دونوں کی بنیاد پر چلنے والے تمام آن لائن رقم والے کھیلوں کی پیشکش، آپریٹنگ یا سہولت فراہم کرنے پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔یہ بل پہلے لوک سبھا اور اگلے ہی دن راجیہ سبھا سے منظور ہوا تھا۔ذرائع کے مطابق آن لائن رقم والے کھیل کھیلنے والوں کو سزا نہیں دی جائے گی، بلکہ صرف خدمات فراہم کرنے والے، اشتہار دینے والے، تشہیر کرنے والے اور مالی مدد فراہم کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی ہوگی۔
ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ مرکزی حکومت تفتیش، تلاشی اور جرائم سے جڑی ڈیجیٹل یا مادی جائیداد ضبط کرنے کے لیے افسران کو اختیار دے سکتی ہے۔ بعض معاملات میں افسران کو بغیر وارنٹ داخل ہونے، تلاشی لینے اور گرفتاری کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔