نئی دہلی: سپریم کورٹ نے بدھ کے روز چھتیس گڑھ کے ڈسٹرکٹ منرل فنڈ (ڈی ایم ایف) میں مبینہ بے ضابطگیوں اور بدعنوانی سے متعلق مقدمے کے ایک مبینہ سرغنہ کو ضمانت دے دی۔ ڈی ایم ایف گھوٹالہ مالی خرد برد کا ایک مقدمہ ہے، جس میں کان کنی سے متاثرہ علاقوں کی مقامی آبادی کی فلاح و بہبود کے لیے مختص فنڈز میں بدعنوانی اور رقم کے غلط استعمال کے الزامات ہیں۔
چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئمالیہ باغچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے ملزم ستپال سنگھ چھابڑا کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل شعیب عالم کے دلائل پر غور کیا۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اس مقدمے کے کئی دیگر ملزمان، جن میں چھتیس گڑھ کیڈر کے ریٹائرڈ آئی اے ایس افسر انیل توتیجا بھی شامل ہیں، پہلے ہی ضمانت حاصل کر چکے ہیں۔
عدالت نے کہا، "مرکزی ملزم انیل توتیجا کو 18 مئی 2026 کو ضمانت دی جا چکی ہے،" اور اسی بنیاد پر ستپال سنگھ چھابڑا کو بھی ضمانت دے دی۔ سپریم کورٹ نے ہدایت دی کہ ملزم ٹرائل کورٹ کے اطمینان کے مطابق ضمانتی مچلکے جمع کرائے گا، جبکہ ٹرائل کورٹ ضرورت کے مطابق دیگر شرائط بھی عائد کر سکتی ہے۔ مبینہ سرغنہ ستپال سنگھ چھابڑا پر الزام ہے کہ اس نے ڈی ایم ایف کے تحت ٹھیکے دلوانے کے بدلے 5 کروڑ روپے کی غیر قانونی رشوت وصول کی۔
واضح رہے کہ اس سے قبل سپریم کورٹ نے سابق بیوروکریٹ انیل توتیجا کو بھی اس بنیاد پر ضمانت دی تھی کہ وہ 24 جنوری 2024 سے مختلف بدعنوانی کے مقدمات میں جیل میں بند تھے۔ انیل توتیجا کو ڈی ایم ایف مقدمے میں 23 فروری 2026 کو گرفتار کیا گیا تھا۔