نئی دہلی/دوحہ:
قطر کے حمد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر گزشتہ تقریباً پندرہ دنوں سے پھنس جانے والی بھارتی نژاد سابق خاتون شہری نازنین محمد کے معاملے میں حکومتِ ہند کی فوری اور انسانی ہمدردی پر مبنی مداخلت نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ ہندوستان اپنے لوگوں اور سابق شہریوں کے ساتھ مشکل گھڑی میں بھی انسانی بنیادوں پر تعاون کرنے کے جذبے پر یقین رکھتا ہے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق تقریباً 50 سالہ نازنین محمد، جو اصل میں ریاست مہاراشٹر سے تعلق رکھتی ہیں، نے چند برس قبل اپنی مرضی سے بھارتی شہریت ترک کرکے ترکی کی شہریت اختیار کی تھی۔ ان کے شوہر امتیاز ملک نے بھی بھارتی شہریت چھوڑ کر ترک شہریت حاصل کر لی تھی۔ دونوں گزشتہ دو دہائیوں سے قطر میں مقیم ہیں اور ان کے تین بیٹے ہیں، جن میں دو ترک شہری جبکہ ایک بھارتی شہری ہے۔

اطلاعات کے مطابق 2022 میں اس جوڑے نے ترکی میں ایک جائیداد میں سرمایہ کاری کی، تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ متعلقہ منصوبہ ایک بڑے مالیاتی فراڈ کا حصہ تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ منصوبے کے ڈویلپر کے خلاف ترک حکام نے کارروائی کی، جائیداد ضبط کر لی گئی اور قانونی پیچیدگیاں پیدا ہو گئیں۔
16 جون کو نازنین محمد اور ان کے شوہر معاملے کی وضاحت اور قانونی چارہ جوئی کے لیے ترکی پہنچے، لیکن استنبول پہنچنے پر دونوں کے پاسپورٹ ترک حکام نے اپنی تحویل میں لے لیے۔ بعد ازاں دونوں کو الگ الگ حراستی مراکز میں منتقل کر دیا گیا۔ نازنین محمد کو بغیر پاسپورٹ کے 17 جون کو قطر واپس بھیج دیا گیا، جبکہ ان کے شوہر اب بھی ترکی میں زیرِ حراست بتائے جاتے ہیں۔
قطر واپسی کے باوجود نازنین محمد کو دوحہ میں داخلے کی اجازت نہیں مل سکی کیونکہ ان کے پاس کوئی قابلِ قبول سفری دستاویز موجود نہیں تھی۔ نتیجتاً وہ گزشتہ کئی دنوں سے حمد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہی پھنسی ہوئی ہیں۔
یہ معاملہ اس وقت مزید حساس ہو گیا جب معلوم ہوا کہ نازنین محمد حال ہی میں معدے کی سرجری سے گزری ہیں اور وہ ہائی بلڈ پریشر، تھائرائیڈ اور ذیابیطس جیسے امراض میں مبتلا ہیں۔ ان کے دو کم عمر بچے بھی قطر میں موجود ہیں، جن میں ایک آٹسٹک بچہ ہے جسے مسلسل طبی نگہداشت اور خصوصی تھراپی کی ضرورت ہے، جبکہ دوسرا بارہویں جماعت کا طالب علم ہے جس کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے۔
انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دوحہ میں بھارتی سفارت خانے نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے وزارتِ خارجہ، حکومتِ ہند کے ساتھ فوری رابطہ قائم کیا۔ ذرائع کے مطابق وزارتِ خارجہ تمام قانونی تقاضے مکمل ہونے کے بعد نازنین محمد کو ہنگامی سفری دستاویز (ایمرجنسی سرٹیفکیٹ) جاری کرنے پر غور کر رہی ہے تاکہ وہ ہندوستان پہنچ سکیں۔
یہ پیش رفت اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہے کہ حکومتِ ہند انسانی اقدار کو مقدم رکھتے ہوئے ایسے افراد کی بھی مدد کے لیے آگے آئی ہے جنہوں نے ماضی میں اپنی مرضی سے بھارتی شہریت ترک کر دی تھی۔ مشکل حالات میں بھارتی سفارت خانے اور وزارتِ خارجہ کی فعال سفارتی کوششیں قابلِ ستائش ہیں، جنہوں نے ایک پیچیدہ انسانی مسئلے کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے۔
اس کے برعکس یہ واقعہ سرمایہ کاری کی بنیاد پر حاصل کی جانے والی شہریت کے بعض پہلوؤں پر بھی سوالات کھڑے کرتا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ بیرونِ ملک سرمایہ کاری یا دوسری شہریت اختیار کرنے سے قبل تمام قانونی اور عملی پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لینا ضروری ہے، کیونکہ بحران کی صورت میں اصل سہارا وہی ریاست بنتی ہے جو اپنے شہریوں اور سابق شہریوں کے ساتھ انسانی بنیادوں پر کھڑی ہو۔
نازنین محمد کا معاملہ اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ شہریت کی تبدیلی جیسے اہم فیصلے صرف معاشی امکانات کو سامنے رکھ کر نہیں بلکہ قانونی تحفظ، شہری حقوق اور مستقبل کے ممکنہ خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے کرنے چاہئیں۔ حکومتِ ہند کی حالیہ پہل نہ صرف ایک انسانی مثال ہے بلکہ دنیا بھر میں مقیم بھارتی نژاد افراد کے لیے اعتماد اور حوصلے کا پیغام بھی ہے۔