سری نگر: کشمیر کے میرواعظ عمر فاروق نے منگل کے روز کہا کہ مسائل کے حل کا واحد مؤثر راستہ مذاکرات ہیں، اور بھارت و پاکستان کی قیادت پر زور دیا کہ وہ دوبارہ بات چیت کا آغاز کرے۔ سری نگر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا، "جب ہم عالمی امن کی بات کرتے ہیں تو مجھے خوشی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی کی کوششیں جاری ہیں۔ توقع ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اسی ہفتے دوبارہ بات چیت ہوگی۔ ہم ہمیشہ ایسے اقدامات کی حمایت کرتے آئے ہیں۔" انہوں نے کہا کہ اگر کشیدگی کے باوجود امریکہ اور ایران مذاکرات کی میز پر آ سکتے ہیں تو بھارت اور پاکستان بھی اپنے مسائل کے حل کے لیے بات چیت کر سکتے ہیں۔
میرواعظ نے کہا، "اسی تناظر میں گزشتہ جمعہ جامع مسجد میں، میں نے کہا تھا کہ اگر ایران اور امریکہ کشیدگی کے بعد مذاکرات کر سکتے ہیں تو بھارت اور پاکستان بھی بیٹھ کر اپنے مسائل حل کر سکتے ہیں۔ اسی جذبے کے تحت میں نے بھارت کی قیادت سے اپیل کی کہ وہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے، کیونکہ جنگیں تنازعات کا حل نہیں ہوتیں۔ مسائل کا حل صرف بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔"
واضح رہے کہ گزشتہ جمعہ جامع مسجد میں خطاب کرتے ہوئے میرواعظ نے جنوبی ایشیا میں مذاکرات اور مدبرانہ قیادت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ وزیراعظم نریندر مودی، جو بھارت کے طویل عرصے تک خدمات انجام دینے والے رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں، دوبارہ مذاکرات کی فضا بحال کر سکتے ہیں۔ میرواعظ نے مزید کہا، "لوگوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ میں نے یہ باتیں کس تناظر میں کی تھیں۔ میرا یقین ہے کہ آج ہمارا خطہ بے پناہ صلاحیتوں کا حامل ہے۔ برصغیر میں وسیع معاشی مواقع اور انسانی وسائل موجود ہیں۔ اگر اس خطے کی قیادت سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرے اور باہمی تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کرے تو پورا خطہ ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔"
بھارت اور پاکستان کے درمیان بہتر تعلقات کو دیرینہ مسائل، بشمول کشمیر تنازع، کے حل کا بہترین راستہ قرار دیتے ہوئے میرواعظ نے امید ظاہر کی کہ بھارت، پاکستان اور کشمیر کی قیادت ایسی کوششوں کی حمایت کرے گی تاکہ خطے میں امن کو فروغ ملے اور مسائل کا حل پُرامن ذرائع سے نکالا جا سکے۔