رام مندر ٹرسٹ تحلیل کرنے کا مطالبہ

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 04-07-2026
رام مندر ٹرسٹ تحلیل کرنے کا مطالبہ
رام مندر ٹرسٹ تحلیل کرنے کا مطالبہ

 



ایودھیا: رام للا مقدمے کے سابق فریق مہنت دھرم داس نے رام مندر میں چندے کے مبینہ غبن کی تحقیقات کے دوران رام جنم بھومی ٹرسٹ کو تحلیل کرنے اور مندر کو دی گئی تمام جائیدادیں دیوتا رام للا کے نام منتقل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات کر رہی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) پر انہیں مکمل اعتماد ہے اور تحقیقات کے لیے مزید 15 دن کی مہلت دینا ایک اچھا فیصلہ ہے۔ ان کے مطابق یہ معاملہ معمولی نہیں بلکہ کروڑوں عقیدت مندوں کے ایمان سے جڑا ہوا ہے، اس لیے تحقیقات میں وقت لگنا فطری بات ہے۔

مہنت دھرم داس نے کہا، "رام جنم بھومی کا معاملہ عقیدے سے وابستہ ہے۔ ایس آئی ٹی کی ذمہ داری ہے کہ اس میں ملوث ہر شخص کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ ہمیں یقین ہے کہ تحقیقات غیر جانبدارانہ ہوں گی۔" رام مندر میں چندے کے مبینہ غبن کا معاملہ 25 جون کو اس وقت سامنے آیا جب شری رام جنم بھومی مندر میں موصول ہونے والے عطیات میں مبینہ خرد برد کے الزام میں ایف آئی آر درج کی گئی۔

ٹرسٹ نے کہا ہے کہ وہ غیر جانبدارانہ تحقیقات اور عقیدت مندوں کے اعتماد کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔ مہنت دھرم داس نے اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ پر بھی اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ مندروں اور آشرموں کے نظام سے بخوبی واقف ہیں۔

انہوں نے کہا، "اگر یہ دولت دیوتا کی ہے تو تمام جائیدادیں بھی دیوتا کے نام ہونی چاہئیں، لیکن ٹرسٹ نے سب کچھ اپنے نام پر رجسٹر کر رکھا ہے۔ میری خواہش ہے کہ ٹرسٹ کو تحلیل کیا جائے اور دیوتا کو دی گئی تمام جائیدادیں رام للا کے نام منتقل کی جائیں۔" ادھر مہنت سیتا رام داس جی مہاراج نے بھی مندر کے چندے میں مبینہ غبن کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے عقیدت مندوں کے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچی ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس معاملے میں "رام مخالف، ملک مخالف اور قوم مخالف عناصر" سرگرم ہیں، تاہم ایس آئی ٹی کی تحقیقات سے سچ سامنے آ جائے گا اور کوئی بھی قصوروار بچ نہیں سکے گا۔ انہوں نے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی جانب سے تحقیقات کے لیے 15 دن کی اضافی مہلت دینے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس سے تمام شواہد جمع کرنے میں مدد ملے گی اور انصاف یقینی بنایا جا سکے گا۔

دوسری جانب پولیس نے اس مقدمے میں گرفتار ایک اور ملزم اویناش شکلا کی گاڑی بھی ضبط کر لی ہے، جو کوشل پوری کالونی سے برآمد ہوئی اور اسے رام جنم بھومی پولیس اسٹیشن منتقل کر دیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق اویناش شکلا کو جمعہ کی رات گرفتار کرنے کے بعد ایودھیا ضلع جیل بھیج دیا گیا۔

ایس آئی ٹی کو تحقیقات مکمل کرنے کے لیے مزید 15 دن کی مہلت دی گئی ہے تاکہ تمام پہلوؤں کا جامع جائزہ لیا جا سکے اور کسی بھی قصوروار کو قانون کی گرفت سے بچنے نہ دیا جائے۔ ادھر اتر پردیش پولیس نے تحقیقات مزید تیز کرتے ہوئے اویناش شکلا سے ایودھیا میں اسپیشل آپریشنز گروپ (ایس او جی) کے دفتر میں پوچھ گچھ شروع کر دی ہے، جہاں ایودھیا کے سرکل آفیسر آشوتوش تیواری سمیت کئی افسران موجود ہیں۔