نئی دہلی: سپریم کورٹ نے 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات کی مبینہ سازش کے معاملے میں ملزم اطہر خان کی ضمانت عرضی پر دہلی پولیس سے جواب طلب کیا ہے۔ اطہر خان نے دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے ضمانت دینے سے انکار کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔
جسٹس اروند کمار اور جسٹس وپول ایم پنچولی کی بنچ نے 19 اگست کو ہائی کورٹ کے 7 جولائی کے حکم کے خلاف خان کی اپیل پر سماعت کرتے ہوئے دہلی پولیس کو نوٹس جاری کیا۔ استغاثہ کے مطابق، خان چاند باغ میں احتجاجی مقام کے انتظام میں شامل تھا اور تشدد سے پہلے کی مبینہ سازش میں بھی اس کا کردار تھا۔ اس سے قبل 29 جنوری کو ٹرائل کورٹ نے خان کی ضمانت عرضی مسترد کر دی تھی، جس کے بعد اس نے دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
ہائی کورٹ نے اسے ضمانت دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ استغاثہ کی جانب سے جمع کیے گئے مواد سے بادی النظر میں اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ وہ اس مبینہ سازش کے اہم سازش کاروں میں شامل تھا۔ سپریم کورٹ میں اطہر خان نے اپنی طویل حراست اور مقدمے کی سماعت مکمل ہونے میں تاخیر کا حوالہ دیا ہے۔ اس نے شریک ملزم شاداب احمد کے ساتھ مساوات کی بنیاد پر بھی ضمانت کی درخواست کی ہے۔ خان جولائی 2020 سے حراست میں ہے۔
استغاثہ کے مقدمے کو چیلنج کرتے ہوئے اس کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس کے پاس سے کوئی ہتھیار برآمد نہیں ہوا اور نہ ہی کوئی سی سی ٹی وی فوٹیج موجود ہے جس میں اسے تشدد میں حصہ لیتے ہوئے دیکھا جا سکے۔ فروری 2020 کے فسادات کے پس پردہ مبینہ بڑی سازش کے سلسلے میں اطہر خان کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یو اے پی اے)، تعزیرات ہند، آرمس ایکٹ اور عوامی املاک کو نقصان پہنچانے سے متعلق قانون کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ چل رہا ہے۔