نئی دہلی
سال 2020 کے دہلی فسادات کی سازش کے ملزم شرجیل امام کی آج (پیر) پیرول ختم ہو رہی ہے۔ شرجیل امام آج دہلی کی تہاڑ جیل میں سرینڈر کریں گے۔ اس کے لیے وہ پیر کی صبح اپنے آبائی گاؤں کاکو سے دہلی کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔ دہلی فساد معاملے میں شرجیل امام گزشتہ 6 برسوں سے جیل میں بند ہیں۔ عدالت نے انہیں اپنی بیمار والدہ سے ملنے اور چھوٹے بھائی کے نکاح میں شرکت کے لیے 10 دن کی عبوری ضمانت دی تھی۔ انہیں 20 سے 30 مارچ تک پیرول ملی تھی۔
گاؤں میں گزارا وقت
شرجیل امام نے اپنے گاؤں کاکو میں خاندان کے ساتھ وقت گزارا اور اپنے چھوٹے بھائی کے نکاح میں شرکت کی۔ اس دوران انہوں نے میڈیا سے دوری بنائے رکھی اور عوامی طور پر کوئی بیان نہیں دیا۔ شرجیل کے چچا ارشد امام نے بتایا کہ اگرچہ پیرول کی مدت کم تھی، لیکن ان 10 دنوں میں شرجیل نے اپنے عزیزوں اور دوستوں کے ساتھ قیمتی وقت گزارا۔
چچا کی وزیر اعلیٰ سے جذباتی اپیل
ارشد امام نے جذباتی ہوتے ہوئے کہا کہ انہیں واپس جیل جاتے دیکھ کر دکھ ہو رہا ہے، لیکن ہمیں ملک کی عدلیہ پر پورا بھروسہ ہے۔ امید ہے کہ وہ جلد ہی ہم سب کے درمیان ہوں گے۔ ساتھ ہی ارشد امام نے بہار کے وزیر اعلیٰ سے بھی جذباتی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ شرجیل بہار کا بیٹا ہے، اس لیے وزیر اعلیٰ کو اس کی رہائی کے معاملے میں ہندوستان کی مرکزی حکومت سے بات کرنی چاہیے۔
دہلی روانگی کے وقت جذباتی مناظر
جب شرجیل امام اپنے گاؤں سے دہلی کے لیے روانہ ہوئے تو ان کے اہل خانہ کافی جذباتی نظر آئے۔ فی الحال دی گئی عبوری ضمانت صرف خاندانی تقریب میں شرکت تک محدود تھی، جس کی مدت آج (30 مارچ) کو ختم ہو رہی ہے۔ وہ آج شام تک دہلی پہنچ کر جیل انتظامیہ کے سامنے سرینڈر کی کارروائی مکمل کریں گے۔