نئی دہلی: ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک، جو گزشتہ 20 دنوں سے جنتر منتر پر بھوک ہڑتال پر تھے، کو ہفتہ کی صبح دہلی پولیس اسپتال لے گئی۔ حکام کے مطابق وانگچک کی اسپتال منتقلی کے بعد احتجاجی مقام پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی۔
یہ پیش رفت 20 جولائی کو پارلیمنٹ مارچ کے اعلان سے صرف دو روز قبل سامنے آئی ہے، جس کا اعلان سونم وانگچک اور ان کے حامیوں نے پہلے ہی کر رکھا تھا۔
تاحال وانگچک کی طبی حالت اور انہیں اسپتال منتقل کیے جانے کی مکمل وجوہات کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔
دریں اثنا، جمعہ کی رات کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی صدر ابھیجیت دیپکے نے الزام عائد کیا کہ جنتر منتر پر احتجاج کے دوران سونم وانگچک پر حملہ کیا گیا۔
ڈاکٹر ستیش لامبا، دہلی میڈیکل ایسوسی ایشن کے مطابق، جمعہ کو وانگچک کا وزن 56.55 کلوگرام ریکارڈ کیا گیا، جو گزشتہ 24 گھنٹوں میں 350 گرام کم ہوا۔ ان کا بلڈ پریشر 108/68، بلڈ شوگر 70 ملی گرام فی ڈیسی لیٹر اور نبض کی رفتار 72 فی منٹ ریکارڈ کی گئی۔
جمعہ کو متعدد اپوزیشن رہنماؤں نے جنتر منتر پہنچ کر سونم وانگچک سے ملاقات کی، ان کی خیریت دریافت کی اور ان سے اظہارِ یکجہتی کیا۔ ان رہنماؤں میں عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال، سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو، این سی پی (شرد چندر پوار) کی رکن پارلیمنٹ سپریا سولے، سماجوادی پارٹی کی ایم پی ڈمپل یادو، کانگریس رہنما پون کھیڑا اور شیو سینا (یو بی ٹی) کے ایم ایل اے آدتیہ ٹھاکرے شامل تھے۔
شیو سینا (یو بی ٹی) کے رہنما آدتیہ ٹھاکرے نے مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے "انتہائی غیر حساس حکومت" قرار دیا اور کہا کہ حکومت نے اتنے طویل عرصے سے جاری بھوک ہڑتال کے باوجود وانگچک کے مطالبات پر کوئی توجہ نہیں دی۔
ادھر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے قومی ترجمان وارث پٹھان نے بھی مرکزی حکومت سے اپیل کی کہ وہ سونم وانگچک سے مذاکرات کرے، ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرے اور طلبہ و والدین سے ان کی حمایت کی درخواست کی۔
جمعرات کو دہلی ہائی کورٹ نے ہدایت دی تھی کہ بھوک ہڑتال کے دوران سونم وانگچک کی صحت کی روزانہ طبی نگرانی کی جائے۔ عدالت نے کہا تھا کہ "ہر شہری کی جان قیمتی ہے اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اسے بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے۔" عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ اگر سرکاری ڈاکٹروں کی رائے میں کسی طبی مداخلت کی ضرورت ہو تو فوری طور پر فراہم کی جائے۔
یہ احکامات چیف جسٹس دیویندر کمار اپادھیائے اور جسٹس تیجس کاریا پر مشتمل ڈویژن بنچ نے وانگچک کی بگڑتی ہوئی صحت سے متعلق دائر عوامی مفاد کی عرضی نمٹاتے ہوئے جاری کیے۔
واضح رہے کہ لداخ سے تعلق رکھنے والے انجینئر، ماہر تعلیم اور ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک، ملک بھر میں امتحانی بے ضابطگیوں، خصوصاً نیٹ (NEET) پیپر لیک معاملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اسی مطالبے کے حق میں وہ گزشتہ 20 دنوں سے جنتر منتر پر بھوک ہڑتال کر رہے تھے، جبکہ 20 جولائی کو پارلیمنٹ مارچ کا بھی اعلان کیا گیا تھا۔