دہلی پولیس نے بچوں کی اسمگلنگ گینگ کا پردہ فاش کیا

Story by  اے این آئی | Posted by  Aamnah Farooque | Date 18-06-2026
دہلی پولیس نے بچوں کی اسمگلنگ گینگ کا پردہ فاش کیا
دہلی پولیس نے بچوں کی اسمگلنگ گینگ کا پردہ فاش کیا

 



نئی دہلی
دہلی پولیس نے نومولود بچوں کی غیر قانونی خرید و فروخت میں ملوث انسانی اسمگلنگ کے ایک بڑے گروہ کا پردہ فاش کیا ہے۔ پولیس نے اس ریکیٹ کے مبینہ سرغنہ سمیت 12 ملزمان کو گرفتار کیا ہے، جن میں ایک خاتون بھی شامل ہے جو خود کو ڈاکٹر ظاہر کرتی تھی۔پولیس ذرائع کے مطابق یہ خاتون ایک نرسنگ ہوم کی مالکہ ہے اور خود کو ڈاکٹر کہتی تھی، تاہم پولیس اس کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ اہلیت کی مکمل جانچ کر رہی ہے اور ابھی تک یہ واضح نہیں ہوا کہ وہ باقاعدہ طور پر کوئی رجسٹرڈ طبی ماہر ہے یا نہیں۔
تحقیقات کرنے والوں کو شبہ ہے کہ یہ گروہ مختلف ریاستوں سے نومولود بچوں کو لاتا تھا، پیدائش کے ریکارڈ اور متعلقہ دستاویزات میں جعل سازی کرتا تھا اور پھر ان بچوں کو خواہشمند والدین کو لاکھوں روپے میں فروخت کر دیتا تھا۔
اس کارروائی کے دوران پانچ نومولود بچوں کو بچا لیا گیا ہے۔ ان میں ایک بچہ چار ماہ کا، دو بچے 27 دن کے، ایک 20 دن کا اور ایک صرف پانچ دن کا ہے۔ ملزمان کو دہلی اور راجستھان سے گرفتار کیا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ کچھ بچوں کو ہریانہ میں فروخت کیا گیا تھا۔
پولیس ذرائع کے مطابق اب تک ایسے شواہد ملے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس نیٹ ورک کے ذریعے 20 سے زائد نومولود بچوں کی اسمگلنگ کی گئی ہو سکتی ہے۔ مزید تحقیقات جاری ہیں۔
اس سے قبل 2 جون کو اتر پردیش پولیس نے 17 سالہ ایک لڑکے کو بازیاب کرایا تھا جو کچھ دنوں سے لاپتہ تھا۔ پولیس کے مطابق اس دوران ہاپوڑ میں بچوں کی اسمگلنگ میں ملوث ایک گروہ کا بھی پردہ فاش کیا گیا۔
ڈی ایس پی ورون مشرا نے اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ چار ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاپتہ لڑکے کی تلاش کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ بچوں کی اسمگلنگ میں ایک منظم گروہ سرگرم ہے اور اسی نے یہ واقعہ انجام دیا تھا
انہوں نے کہا کہ 14 سے 15 سال کا ایک لڑکا کچھ دن پہلے لاپتہ ہوا تھا اور اس کی تلاش جاری تھی۔ تحقیقات میں معلوم ہوا کہ بچوں کی اسمگلنگ کرنے والا ایک گروہ سرگرم ہے اور یہ واقعہ بھی اسی نے انجام دیا۔ چار ملزمان کو گرفتار کیا گیا اور 17 سالہ لڑکے کو بازیاب کرا لیا گیا۔ یہ لوگ ہر عمر کے بچوں کو تلاش کرتے تھے۔ چاروں مختلف اضلاع سے تعلق رکھتے ہیں۔