نئی دہلی: دہلی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے 20 جولائی کو جنتر منتر میں ہونے والے احتجاج سے متعلق جعلی اور گمراہ کن مواد پھیلانے والے پاکستان سے چلائے جا رہے 400 سے زائد سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی نشاندہی کرکے انہیں بلاک کر دیا ہے۔ نیٹ (NEET) پرچہ لیک کے خلاف جاری طلبہ احتجاج کے دوران پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وسطی دہلی کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ڈی سی پی) روہت راجبیر سنگھ نے کہا کہ دہلی پولیس متعلقہ اداروں کے تعاون سے پاکستان سے چلائے جا رہے مزید ایسے اکاؤنٹس کی نشاندہی کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا، "ہماری تحقیقات میں معلوم ہوا کہ پاکستان سے چلائے جانے والے بعض سوشل میڈیا اکاؤنٹس احتجاج سے متعلق جعلی مواد پھیلا رہے ہیں۔ اب تک ایسے 400 سے زائد ہینڈلز کی نشاندہی کرکے انہیں بلاک کیا جا چکا ہے۔ یہ اکاؤنٹس مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ مواد، ڈیپ فیک ویڈیوز، ترمیم شدہ تصاویر اور دیگر گمراہ کن مواد پھیلا رہے تھے۔" ڈی سی پی نے بتایا کہ ان میں سے بعض اکاؤنٹس آپریشن سندور کے دوران بھی جعلی معلومات پھیلانے میں سرگرم تھے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان اکاؤنٹس نے کئی اعلیٰ افسران کے سرکاری بیانات میں رد و بدل کرکے اور بصری مواد میں ترمیم کرکے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ جنتر منتر میں جاری احتجاج سے متعلق کسی بھی ویڈیو، تصویر یا سوشل میڈیا پوسٹ پر یقین کرنے یا اسے آگے شیئر کرنے سے پہلے اس کی حقیقت کی تصدیق ضرور کریں۔ روہت راجبیر سنگھ نے کہا، "سوشل میڈیا پر معلومات بہت تیزی سے وائرل ہوتی ہیں، لیکن ہر پوسٹ، ویڈیو یا تصویر درست نہیں ہوتی۔ اس لیے کسی بھی معلومات پر یقین کرنے یا اسے شیئر کرنے سے پہلے اس کی جانچ ضروری ہے۔"
انہوں نے کہا کہ دہلی پولیس سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے اور اپنے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے جعلی خبروں، اے آئی سے تیار کردہ مواد، ڈیپ فیک ویڈیوز، ایڈٹ شدہ کلپس اور گمراہ کن پوسٹس کے بارے میں عوام کو آگاہ کر رہی ہے تاکہ لوگ صحیح اور غلط معلومات میں فرق کر سکیں۔
ڈی سی پی نے مزید بتایا کہ مختلف مسابقتی امتحانات میں پرچہ لیک اور بے ضابطگیوں سے نمٹنے کے لیے دہلی پولیس نے کرائم برانچ کے تحت ایک خصوصی ٹاسک فورس (STF) بھی تشکیل دی ہے، جس کی قیادت ڈی سی پی رینک کا افسر کرے گا اور اس کی نگرانی اسپیشل کمشنر آف پولیس (کرائم) کریں گے۔