نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ زچگی سے متعلق مشکلات کا سامنا کرنے والی خواتین وکلا کے معاملے میں عدالتوں کو حساس اور انسانی رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ عدالت نے واضح کیا کہ جب وکیل کی غیرحاضری کی مناسب اور قابلِ قبول وجہ ثابت ہو جائے تو فریقِ مقدمہ پر بھاری جرمانہ عائد نہیں کیا جا سکتا۔ جسٹس اجے ڈگپال نے درخواست گزار دل باغ سنگھ پر عائد 25 ہزار روپے کے جرمانے کو ختم کر دیا۔
عدالت نے یہ راحت ایک ایسے معاملے میں دی جو تیس ہزاری عدالت میں زیرِ سماعت دیوانی مقدمے سے متعلق تھا۔ درخواست گزار نے ٹرائل کورٹ سے مدعا علیہ کے گواہ پر جرح مکمل کرنے کے لیے ایک اور موقع دینے کی درخواست کی تھی۔ ان کی وکیل ایڈووکیٹ ادیتی ڈرال نے پہلے گواہ سے جزوی جرح کی تھی، لیکن بعد کی تاریخوں پر وہ عدالت میں موجود نہیں ہو سکیں۔
عدالتی حکم کے مطابق، ایک تاریخ پر وکیل دہلی بار کونسل کے جاری انتخابات کے باعث دستیاب نہیں تھیں۔ اس کے بعد کی تاریخ پر بھی وکیل کی عدم موجودگی کے سبب درخواست گزار کا جرح کا حق ختم کر دیا گیا۔ بعد میں درخواست گزار نے جرح کا موقع بحال کرنے اور اسے آخری بار جرح مکمل کرنے کا موقع دینے کی درخواست دائر کی۔
عدالت کو بتایا گیا کہ وکیل کی غیرحاضری جان بوجھ کر نہیں تھی، بلکہ اس وقت وہ آٹھ ماہ کی حاملہ تھیں اور ڈاکٹروں نے انہیں بستر پر آرام کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ ٹرائل کورٹ نے درخواست منظور کرتے ہوئے جرح کا موقع بحال کر دیا، تاہم اس کے لیے مدعا علیہ کے وکیل کو 25 ہزار روپے جرمانہ ادا کرنے کی شرط عائد کر دی۔
اس جرمانے کے خلاف درخواست گزار نے دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ وکیل کی غیرحاضری کی مناسب وجہ ثابت ہو چکی تھی اور عائد کردہ رقم بہت زیادہ تھی۔ دہلی ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ وکیل کو بستر پر آرام کا مشورہ دیا گیا تھا، جو ان کی غیرحاضری کے لیے کافی اور مناسب وجہ تھی۔ جسٹس ڈگپال نے کہا کہ جرمانے کا مقصد غیرضروری غفلت کی حوصلہ شکنی اور متاثرہ فریق کو مناسب معاوضہ دینا ہے، لیکن جب غیرحاضری کی حقیقی وجہ ثابت ہو جائے تو جرمانہ فریق پر غیرضروری بوجھ نہیں بننا چاہیے۔
عدالت نے کہا، "درخواست گزار پر بھاری جرمانہ عائد نہیں کیا جانا چاہیے، خاص طور پر جب وکیل کی غیرحاضری کی مناسب وجہ ثابت ہو چکی ہو۔" اس کے بعد ہائی کورٹ نے پورا 25 ہزار روپے کا جرمانہ معاف کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کے حکم میں عائد وہ شرط ختم کر دی جس کے تحت گواہ سے جرح کی اجازت کے لیے یہ رقم ادا کرنا ضروری تھی۔