نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے جمعرات کو قرار دیا کہ ووٹر فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (Special Intensive Revision) کے دوران سیاسی جماعتوں کے بوتھ لیول ایجنٹس (BLA) انتخابی اندراج کے فارم میں درج تمام تفصیلات کی تصدیق کے ذمہ دار نہیں ہیں۔
جسٹس امیت بنسل نے کہا کہ بوتھ لیول ایجنٹس صرف ایسی معلومات کی تصدیق کے ذمہ دار ہیں جن کی وہ خود جانچ کر سکتے ہیں، مثلاً ووٹر کی تصویر۔ جج نے کہا، ’’اس عدالت کی رائے میں عوامی نمائندگی قانون کی دفعہ 31 کے تحت بی ایل اے کو صرف اسی معلومات کے سلسلے میں ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے جس کی وہ خود تصدیق کر سکتا ہے، یعنی انتخابی اندراج کے فارم پر موجود تصویر ووٹر کی شناخت سے مطابقت رکھتی ہے یا نہیں۔‘‘
عوامی نمائندگی قانون کی دفعہ 31 کے مطابق انتخابی فہرست کی تیاری، نظرثانی یا تصحیح سے متعلق جھوٹا بیان دینا جرم ہے، جس پر ایک سال تک قید، جرمانہ یا دونوں کی سزا ہوسکتی ہے۔ یہ فیصلہ دہلی پردیش کانگریس کمیٹی (DPCC) کے صدر دیویندر یادو اور ڈی پی سی سی کی بوتھ مینجمنٹ کمیٹی کے چیئرمین کی جانب سے دائر درخواست پر سنایا گیا۔ درخواست گزاروں نے اس شرط کو چیلنج کیا تھا جس کے تحت سیاسی جماعتوں کے بوتھ لیول ایجنٹس کو ذاتی طور پر حلف نامہ دے کر یہ تصدیق کرنا ضروری قرار دیا گیا تھا کہ انہوں نے انتخابی اندراج کے فارم میں درج تمام تفصیلات کی خود جانچ کی ہے۔
درخواست گزاروں کے مطابق عوامی نمائندگی قانون یا رجسٹریشن آف الیکٹرز رولز میں ایسی کوئی شق موجود نہیں ہے جو الیکشن کمیشن کو سیاسی جماعتوں کے نمائندوں سے اس طرح کی یقین دہانی طلب کرنے کا اختیار دیتی ہو۔ درخواست میں کہا گیا تھا، ’’بی ایل اے سے ذاتی یقین دہانی کا مطالبہ عوامی نمائندگی قانون 1950 کی دفعہ 23 میں مقرر کردہ تصدیقی طریقہ کار کے براہ راست خلاف ہے۔ اس دفعہ کے تحت انتخابی فہرست میں کسی نام کا اندراج انتخابی رجسٹریشن افسر ہی کرے گا اور اس سے پہلے مقررہ طریقہ کار کے مطابق ’حقائق کی مناسب تصدیق‘ ضروری ہے۔‘‘
درخواست میں مزید کہا گیا کہ قوانین کے تحت مقررہ طریقے سے تصدیق کا کام قانونی طور پر مقرر افسران انجام دیتے ہیں، نہ کہ نجی افراد یا سیاسی جماعتوں کے نمائندے۔ بی ایل اے سے ذاتی طور پر تمام تفصیلات کی تصدیق کی یقین دہانی لینا قانونی ذمہ داری کو نجی افراد کے سپرد کرنے کے مترادف ہے، جو غیر قانونی ہے۔